ضیاءالحق — Page 198
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۹۸ منن الرحمن ۵۲) هو الذي خلق الانسان۔ و أتم الخلق و زان۔ واكمل الاحسان وہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی پیدائش کو پورا کیا اور زینت بخشی اور اپنے احسان کو کمال تک فكيف يظن انه ما علم البيان۔ اتظن انه قدر على خلق البشر۔ و ما پہنچایا ۔ پس ایسے محسن کی نسبت کیونکر گمان کیا جائے کہ اس نے انسان کو بولنا نہ سکھایا کیا تیرا یہ ظن ہے کہ وہ قدر على الانطاق وازالة الحصر او كان من الغافلين افانت انسان کے پیدا کرنے پر تو قادر ہوا لیکن اس کے بلانے اور اس کی زبان کھولنے پر قادر نہ ہو سکا یا وہ غافلوں تعجب ههنا من قدرة رب العالمين و ترى انه قوى متين وانه میں سے تھا کیا تو اس جگہ رب العالمین کی قدرت سے تعجب کرے گا اور تو دیکھتا ہے کہ وہ زبر دست قوت والا خالق الجوهر والعرض و منور السموات والارض۔ ومجيب ہے اور وہ جو ہر اور عرض کو پیدا کرنے والا ہے اور زمین اور آسمان کو روشن کرنے والا ہے اور دعاؤں کو قبول دعوة الداعين۔ فهل لك ان تتوب اليه و تميل۔ وتتحامى القال کرنے والا ہے۔ پس کیا تو اس بات کی طرف رغبت رکھتا ہے کہ اس کی طرف رجوع کرے اور قیل و قال کو والقيل۔ والله يحب الصالحين۔ چھوڑ دے اور خدا نیک بندوں سے محبت رکھتا ہے ۔ فلما ثبت ان ربنا هو نور كل شئ من الاشياء۔ ومنير ما في اور جبکہ ثابت ہوا کہ ہما را خدا هر یک چیز کا نو ر ا ور زمین اور آسمان کا روشن الارض والسماء۔ ثبت انه المفيض من جميع الانحاء۔ و خالق الرقيع کرنے والا ہے تو ثابت ہو گیا کہ وہی ہر ایک طرح سے مبدء جمیع فیوض ہے اور وہی زمین والغبراء و هو احسن الخالقين۔ و انه اعطى العينين۔ و خلق اللسان | و آسمان کا خالق اور احسن الخالقین ہے اس نے دو آنکھیں دیں اور زبان اور ہونٹ والشفتين۔ وهدى الرضيع الى النجدين۔ وما غادر من كمال مطلوب دیئے اور بچہ کو پستانوں کی طرف ہدایت دی اور کوئی ایسا کمال انسانی اٹھا نہ رکھا