ضیاءالحق — Page 197
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۹۷ منن الرحمن دم و قدوس لا يلحقه وصم۔ و هذا هو محجة الاهتداء ومشرب (٥٣) بدی اس کی طرف پیش دستی نہیں کر سکتی اور وہ نہایت پاک ہے کوئی عیب اس کے شامل حال نہیں ہو سکتا الاولياء والاصفياء۔ وصراط الذين انعم الله عليهم وسبيل الذين یہی ہدایت یابی کی راہ ہے اور اولیاء اور اصفیا کا مشرب ہے اور ان لوگوں کی راہ ہے جن کو آنکھیں دی نور عينيهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين۔ فوالله الذي هو گئیں مگر جن پر خدا کا غضب اور گمراہ ہیں ان کی یہ راہ نہیں پس اس خدا کی قسم ہے جو ذوالجلال والاکرام ذو الجلال والاكرام ان البشر ما وجد كمالا الا من فيضه التام ہے کہ انسان نے ہر یک کمال اسی کے فیض سے پایا ہے اور وہ بہتر انعام کرنے والا ہے کیا لوگ یہ کہتے وهو خيـر الـمـنـعـمـيـن ام يقولون ان نعمة النطق ما جاءت من ہیں کہ بولنے کی نعمت خدا تعالیٰ سے انسان کو نہیں ملی اور انسان کا پیدا کرنے والا اس نعمت کا دینے والا الرحمان و ما كان معطيها خالق الانسان۔ فهذا ظلم و زور وغلو نہیں ۔ پس یہ ظلم اور جھوٹ ہے اور ظلم میں شیطان کی طرح غلو ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے في العدوان۔ كالشياطين۔ وتلك قوم ما قدروا الله حق قدره۔ وما خدا تعالیٰ کی وہ قدر نہیں کی جو قد ر کرنے کا حق تھا اور اس کے سورج اور چاند کی طرف نظر اٹھا کر نہیں نظروا الى شمسه و بدره۔ و ما فكروا انه هو رافع كل الدجى۔ وانه دیکھا اور یہ نہیں سوچا کہ وہ وہ خدا ہے جو ہر یک تاریکی کو دور کرتا اور بلند آسمانوں اور زمین کا پیدا خالق الارض والسموات العلى خلق الانسان ثم انطقه ثم هدى۔ کرنے والا ہے اس نے انسان کو پیدا کیا پھر اس کو بولی سکھائی اور پھر ہدایت دی اور کوئی ایسی نعمت وما من نعمة الا اعطى فهذا هو ربّنا الأعلى وخالقنا الاغنى۔ نہیں جو اس نے عطا نہیں کی پس یہی ہمارا برتر خدا ہے اور ہما را پیدا کنندہ جو نہایت غنی ہے اس کی نعمتیں وسعت نعمه ظاهرنا وباطننا واحاطت آلائه ابداننا وانفسنا ہمارے ظاہر اور باطن پر محیط ہو رہی ہیں اور اس کی بخشش ہمارے بدنوں اور جانوں پر احاطہ کر رہی ہیں