ضیاءالحق — Page 199
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۹۹ منن الرحمن الا اعطاها باحسن اسلوب۔ فمن الغباوة ان تظن ان النطق الذي هو نور ۵۵) جس کی طرف انسان کو حاجت ہے اور ہر یک مطلوب احسن طور سے ادا کیا پس یہ نادانی ہوگی کہ ایسا گمان کیا حقيقة الانسان و مناط العبادة والذكر والايمان۔ ما اعطى مع الخلقة من | جائے کہ وہ نطق جو انسانی حقیقت کا نور ہے اور ذکر اور ایمان اور عبادت کا مدار ہے وہی خدا تعالیٰ کی الرحمان۔ بل وجده البشر بشق النفس وجهد الجنان بعد تطاول امد طرف سے انسانی پیدائش کو نہیں ملا بلکہ انسان نے اس کو اپنی محنت اور مشقت سے بعد مدت مدید اور زمانہ وامتداد الزمان۔ وهل هذا الا افتراء الكاذبين۔ و من أمن بالذي له كمال دراز کے پایا اور یہ خیال صریح دروغ گو لوگوں کا افترا ہے اور جو شخص اس ذات پر ایمان لایا ہو جو اپنی تام في الذات والصفات۔ و فيوض متنوعة لاهل الارض والسموات۔ ذات اور صفات میں کمال تام رکھتا ہے جو رنگا رنگ کے فیوض زمین اور آسمان کے باشندوں کے لئے رکھتا وعرف انه مبدء الفيوض من جميع الجهات يومن بالضرورة بانه اعطى ہے اور اس نے جان لیا ہو کہ خدا تعالیٰ ہر یک جہت سے مبدء فیض ہے وہ بالضرورت اس بات پر ایمان كل شيء خلقه و ما غادر شيئًا من الكمالات و هو مفيض كل فيض لائے گا کہ اس نے ہر یک چیز کو اس کے مناسب حال پیدائش بخشی ہے اور کوئی مطلوب باقی نہیں چھوڑا اور احتاجت اليه طبائع المخلوقات بحسب الاستعدادات۔ و ما نعب ہر یک فیض کا مبدء ہے اور مخلوقات کی طبیعتیں بحسب استعداد اس کی طرف محتاج ہیں اور کوئی کواکاں کاں غراب الا بتعليمه۔ وما زئر اسد الا بتفهيمه۔ هو منبع كل خير و فيضان نہیں کرتا اور نہ شیر گر جتا ہے مگر اسی کی تعلیم اور تفہیم سے اور وہ ہر یک خیر اور فیض کا مبدء اور ہر یک نطق اور ومعلم كل نطق وبيان وكذلك كان شان رب العالمين۔ اتزعم انه ربى بیان کا معلم ہے اور ایسی ہی رب العالمین کی شان ہونی چاہئے تھی کیا تیرا یہ زعم ہے کہ اس نے انسان کی اس الانسان كرجل عاجز من اكمال التربية لا بل ربّاه بأيدى القدرة التامة | شخص کی طرح پرورش کی جو کامل پرورش کرنے سے عاجز ہو ۔ یہ ہرگز درست نہیں بلکہ اس نے قدرت تامہ