ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 581

ضیاءالحق — Page 180

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۸۰ منن الرحمن ۳۶) و اخبارًا و مكروا مكرًا كُبّارًا ۔ و زوّروا اطوارا و اهلكوا خلقًا كثيرًا اخباروں کو بدل ڈالا اور ایک بڑا مگر کیا اور کئی طور سے جھوٹ کو آراستہ کیا اور ایک دنیا کو جاہلوں من الجاهلين۔ قتلوا زُمرا كثيرة و ابدوا مكيدة كبيرة۔ فما نبأ سيفهم سوان کی تلوار نے میں سے ہلاک کیا بہت سے لوگوں کو قتل کیا اور ایک عجیب مکر ظاہر کیا نبوة و وردوا الديار متبوء ين۔ و ما تركوا دقيقة الفساد۔ و جهروا کبھی خطا نہ کیا اور وہ اس نیت سے ملکوں میں گئے کہ اگر ان کو اپنی مرضی پر پاویں تو وہیں ڈیرے جمالیں اور فساد کا بالذحل من العناد وقلبوا امور الحق والسداد وصافوا الشيطان کوئی دقیقہ نہ چھوڑا اور عناد کی وجہ سے اپنے کینہ کو کھلے کھلے طور پر ظاہر کر دیا اور حق اور صلاحیت کی باتوں کو بدلا دیا اور مشافنين و ما نكبوا عنهم بغض الصادقين۔ بل نجد كل فرد ذا حنق شیطان کے زانو بزانو بیٹھ کر اس سے صلح کر لی اور اپنے تئیں بچوں کے بغض سے علیحدہ نہ کر سکے بلکہ ہم ہر ایک کو ان میں سے و مصرا على نجس و رهق و ما نجدهم الا مفترين۔ لا يعلمون الا جھگڑالو اور غضبناک پاتے ہیں اور ان کو نقصان رسانی اور حق پوشی پر مصر د یکھتے ہیں اور ہم نے ان میں بجز افترا کرنے کے اور کچھ نہیں پایا الاكل والنيك و لا يؤثرون الا الزينة والصيك و لا يمشون الا وہ بجز کھانے اور جماع کے اور کچھ نہیں جانتے اور بجز زینت اور خوشبو کے اور کچھ اختیار نہیں کرتے اور بجز تکبر کی چال مستكبرين۔ فحملنا بهم انواع الاحمال ۔ لو حُمِّلَتُ مثلها راسخات کے اور کوئی چال نہیں چلتے پس ہم نے ان سے انواع اقسام کے بوجھ اٹھائے اور ایسے بوجھ اٹھائے کہ اگر ان کی مانند مضبوط الجبال لخرّت وانهدت في الحال۔ و ناء بها باس الاثقال۔ و سقطت پہاڑوں پر بوجھ پڑتے تو فی الفور گر پڑتے اور بوجھ ان کو گرا دیتا اور ایسے گرتے كالساجدين۔ ولكنا كنا محفوظين۔ جیسا کہ کوئی سجدہ کرتا ہے مگر ہم حفاظت کئے گئے تھے ۔ و كان قلبي يقلق و كادت نفسى تزهق لو لم يكن اور میرا دل بے قراری میں تھا اور قریب تھا کہ میری جان نکل جاتی اگر