ضیاءالحق — Page 179
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۷۹ منن الرحمن ممعنين۔ يسمعون الحق فيأبون۔ كأنهم الى الموت يُدْعَوُن و يرون (۳۵) سچی بات کو سن کر پھر سرکشی کرتے ہیں۔ گویا وہ موت کی طرف بلائے جاتے ہیں اور دیکھتے ان الدنيا غدور والدهر عثور ۔ ثم يكبّون عليها كالعاشقين و لهم ہیں کہ دنیا سخت بے وفا ہے اور زمانہ منہ کے بل گرنے والا ہے پھر دنیا پر عاشقوں کی طرح گرتے ہیں عمل يعملون في الدار و عمل آخر للانظار فويل للمرائين و قد اور بعض ان کے کام وہ ہیں جو گھر میں کرتے ہیں اور بعض وہ کام ہیں جو دکھلانے کے لئے ہیں سور یا کاروں پر واویلا ہے رأوا فساد الكفار و علموا ان الدين صار غرض الاشرار وديس انہوں نے خوب دیکھ لیا کہ کافروں کا فساد کیسا بڑھ گیا ہے اور وہ خوب جانتے ہیں کہ دین شریروں کا نشانہ بن گیا اور حق الحق تحت ارجل الفجار ثم ينومون نوم الغافلين ولا يلتفتون الى بدکاروں کے پیروں کے نیچے کچلا گیا ۔ پھر غافلوں کی طرح پڑے سوتے ہیں اور دین کی ہمدردی کے لئے کچھ مواسات الدين۔ يسمعون كل صيحة موذية ثم لا يبالون قول كفرة بھی توجہ نہیں کرتے ہر یک دکھ دینے والی آواز کو سنتے ہیں ۔ پھر کافروں نا پاکوں کی باتوں کی کچھ بھی فجرة و لا يقومون كذى غيرة بـل يثـقـلـون كالحبالى و ما هم پروانہیں رکھتے اور ایک ذی غیرت انسان کی طرح نہیں اٹھتے بلکہ حمل دار عورتوں کی طرح اپنے تئیں بو جھل بنا لیتے بحبالى و اذا قاموا الى خير قاموا کسالی و ما تجد فيهم صفة ہیں حالانکہ وہ حمل دار نہیں ۔ اور جب کسی نیکی کی طرف اٹھتے ہیں تو سست اور ڈھیلے اٹھتے ہیں اور تو محنت کشوں کے لچھن الجاهدين و اذا رأو حظ انفسهم فتراهم يهرعون اليه واثبين۔ ان میں نہیں پائے گا اور جب کوئی نفسانی حظ دیکھیں تو تو دیکھے گا کہ اس کی طرف دوڑتے بلکہ اچھلتے چلے جاتے ہیں ۔ هذا حال علماء نا الكرام۔ واما الكفار فيجاهدون لاطفاء الاسلام یہ تو ہمارے بزرگ علماء کا حال ہے مگر کافر تو اسلام کے مٹانے کے لئے سخت کوشش کر رہے ہیں اور ان کے تمام مشورے وما كان نجواهم الا لهذا المرام وما كانوا منتهين۔ حرفوا كتبا اسی مقصد کے لئے ہیں باز نہیں آتے ۔ کتابوں اور اور