ضیاءالحق — Page 181
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۸۱ منن الرحمن معى قوى متين۔ وانه مولانا و لا مولى للكافرين و انه يجيب دعاء نا ﴿۳۷﴾ خدائے قوی میرے ساتھ نہ ہوتا اور وہی ہمارا آقا ہے اور کافروں کا کوئی آقا نہیں اور وہی ہے جو ہماری و يسمع بكاء نا و يأتينا اذا أتـيـنـاه مضطرين۔ وکذالک اذا خوفنی دعا کو قبول کرتا اور ہمارے رونے کو سنتا ہے اور جب ہم بے قرار ہو کر اس کی جناب میں آتے ہیں تو ہماری هجوم الأفات وارعدنى ضعف المسلمين والمسلمات فبكيت في طرف آتا ہے اور اسی طرح جب آفات کے ہجوم نے مجھ کو ڈرایا اور مسلمانوں کے ضعف نے میرے بدن وقت من الأوقات۔ ودعوت ربى قاضى الحاجات وناديت مولاى پر لرزہ ڈالا ۔ پس میں ایک خاص وقت میں رویا اور اپنے رب کی جناب میں جو قاضی الحاجات ہے دعا کی كالمتضرعين۔ وقلت يا رب انت ملجأنا في كل حين۔ ونحن اور اپنے مولا کو تضرع کرنے والوں کی طرح پکارا اور میں نے کہا کہ یا الہی تو ہر وقت میں ہماری پناہ ہے اور ہم الیک نشكو وانت احكم الحاكمين فلا تؤاخذنا ان نسينا او تیری طرف شکایت کرتے ہیں اور تو احکم الحاکمین ہے پس ہمارے بھولنے اور خطا کرنے پر مت پکڑ اور ہم پر اخطانا ولا تحمل علينا اصرا كما حملته على الذين من قبلنا۔ و لا بوجھ مت ڈال جیسا کہ تو نے ان پر بوجھ ڈالا جو ہم سے پہلے تھے اور ہمارے سر پر وہ بوجھ مت رکھ جس کے تحملنا ما لا طاقه لنا به واعف عنا واغفر لنا وارحمنا انت مولانا | اٹھانے کی ہمیں طاقت نہیں اور ہم سے درگزر کر اور ہمیں ڈھانک لے اور ہم پر رحم کر تو ہمارا آقا ہے سو فانصرنا على القوم الكافرين۔ فاستجاب لى ربي و اعطانی اربی ہمیں کافروں پر مدد دے ۔ سو میرے خدا نے میری دعا قبول کی اور میری حاجت مجھے عنایت کی اور مجھ کو ونصرني وهو خير الناصرين۔ فكنت يوما اتذكر قلة البعاع مدد دی اور وہ بہتر مدد دینے والا ہے ۔ سو میں ایک دن اپنے کئی سرمایہ کو یا د کر رہا تھا اور نرم اور نو خیز سبزہ وارتعد كاللعاع۔ واقلق في هذه الاحزان۔ واقرء آيات القرآن کی طرح کا نپتا تھا اور انہیں غموں میں بے قرار ہو رہا تھا اور قرآن شریف کی آیتیں پڑھتا تھا