تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 212

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۱۲ تحفہ گولڑویہ اور اس کا فتنہ تمام فتنوں سے بڑھ کر ہے تو گویا نعوذ باللہ خدا بھول گیا کہ ایک بڑے فتنہ کا ذکر بھی نہ کیا اور صرف دوفتنوں کا ذکر کیا ایک اندرونی یعنی مسیح موعود کو یہودیوں کی طرح ایذا دینا دوسرے عیسائی مذہب اختیار کرنا ۔ یا د رکھو اور خوب یا د رکھو کہ سورۃ فاتحہ میں صرف دو فتنوں سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی گئی ہے (۱) اول یہ فتنہ کہ اسلام کے مسیح موعود کو کافر قرار دینا۔ اُس کی توہین کرنا۔ اُس کی ذاتیات میں نقص نکالنے کی کوشش کرنا۔ اُس کے قتل کا فتویٰ دینا جیسا کہ آيت غير المغضوب عليهم میں انہی باتوں کی طرف اشارہ ہے (۲) دوسرے نصاری کے فتنے سے بچنے کے لئے دُعا سکھلائی گئی اور سورۃ کو اسی کے ذکر پر ختم کر کے اشارہ کیا گیا ہے کہ فتنہ نصاری ایک سیل عظیم کی طرح ہوگا اس سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں ۔ غرض اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اس عاجز کی نسبت قرآن شریف نے اپنی پہلی سورۃ میں ہی گواہی دے دی ورنہ ثابت کرنا چاہئے کہ کن مغضوب عليهم سے اس سورۃ میں ڈرایا گیا ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ حدیث اور قرآن شریف میں آخری زمانہ کے بعض علماء کو یہود سے نسبت دی ہے۔ کیا یہ سیچ نہیں کہ مغضوب علیھم سے مراد وہ یہود ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو سلسلہ موسویہ کے آخری خلیفہ اور مسیح موعود تھے کا فر ٹھہرایا تھا اور اُن کی سخت تو ہین کی تھی اور اُن کے پرائیویٹ امور میں افترائی طور پر نقص ظاہر کئے۔ طور پر نقص ظاہر کئے تھے ۔ پس جبکہ ۔ جبکہ یہی لفظ مغضوب عليهم كا ان یہودیوں کے مثیلوں پر بولا گیا جن کا نام بوجہ تکفیر وتو بين حضرت مسیح مغضوب عليهم رکھا گیا تھا۔ پس اس جگہ مغضوب علیھم کے پورے مفہوم کو پیش نظر رکھ کر جب سوچا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ آنے والے مسیح موعود کی نسبت صاف اور صریح پیشگوئی ہے کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے پہلے مسیح کی طرح ایذا اُٹھائے گا۔ اور یہ دعا کہ یا الہی ہمیں مغضوب عليهم ہونے سے بچا۔ اس کے قطعی یقینی یہی معنے ہیں کہ ہمیں اس سے بچا کہ ہم تیرے مسیح موعود کو جو پہلے مسیح کا مثیل ہے ایذا نہ دیں اُس کو کافر نہ ٹھہرائیں۔ ان معنوں کے لئے یہ قرینہ کافی ہے