تحفۂ گولڑویہ — Page 211
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۱۱ تحفہ گولڑویہ ہے کہ جب تم دجال کو دیکھو تو سورہ کہف کی پہلی آیتیں پڑھو اور وہ یہ ہیں : - اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا - قَيِّمًا لِيُنْذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِن لَّدُنْهُ وَيُنْذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِآبَابِهِمْ كَبُرَتْ ﴿۷۳) كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا ان آیتوں سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال سے کسی گروہ کو مراد رکھا ہے اور عوج کے لفظ سے اس جگہ مخلوق کو شریک الباری ٹھہرانے سے مراد ہے جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو ٹھہرایا ہے۔ اور اسی لفظ سے فیج اعوج مشتق ہے۔ اور فیج اعوج سے وہ درمیانی زمانہ مراد ہے جس میں مسلمانوں نے عیسائیوں کی طرح حضرت مسیح کو بعض صفات میں شریک الباری ٹھہرا دیا ۔ اس جگہ ہر ایک انسان سمجھ سکتا ہے کہ اگر دجال کا بھی کوئی علیحدہ وجود ہوتا تو سورۃ فاتحہ میں اُس کے فتنہ کا بھی ذکر ضرور ہوتا اور اُس کے فتنہ سے بچنے کے لئے بھی کوئی علیحدہ دعا ہوتی مگر ظاہر ہے کہ اس جگہ یعنی سورۃ فاتحہ میں صرف مسیح موعود کو ایذا دینے سے بچنے کے لئے اور نصاری کے فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے دعا کی گئی ہے ۔ حالانکہ بموجب خیالات حال کے مسلمانوں کا دجال ایک اور شخص ہے نسائی نے ابی ہریرہ سے دجال کی صفت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث لکھی ہے: يخرج في آخر الزمان دجال يختلون الدنيا بالدين۔ يلبسون للناس جلود الضأن ۔۔۔۔۔ السنتهم احلى من العسل وقلوبهم قلوب الذياب يقول الله عز وجل أبي يغترون ام على يجترء ون ۔ الخ یعنی آخری زمانہ میں ایک گروہ دجال نکلے گا۔ وہ دنیا کے طالبوں کو دین کے ساتھ فریب دیں گے یعنی اپنے مذہب کی اشاعت میں بہت سا مال خرچ کریں گے۔ بھیڑوں کا لباس پہن کر آئیں گے ان کی زبانیں شہد سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور دل بھیڑیوں کے ہوں گے۔ خدا کہے گا کہ کیا تم میرے حلم کے ساتھ مغرور ہو گئے اور کیا تم میرے کلمات میں تحریف کرنے لگے ۔ جلدے صفحہ ۱۷۴ کنز العمال - منه الكهف: ۲ تا ۶ کنز العمال مطبوعہ حیدر آباد دکن ۱۳۱۴ھ۔ (ناشر)