تحفۂ گولڑویہ — Page 213
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۱۳ تحفہ گولڑویہ کہ مغضوب عليهم صرف ان یہودیوں کا نام ہے جنہوں نے حضرت مسیح کو ایذا دی تھی اور حدیثوں میں آخری زمانہ کے علماء کا نام یہود رکھا گیا ہے یعنی وہ جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تکفیر و توہین کی تھی ۔ بر و توہین کی تھی۔ اور اس دعا میں ہے کہ یاا دعا میں ہے کہ یا الہی ہمیں وہ فرقہ مت بنا جن کا نام مغضوب عليهم ہے۔ پس دعا کے رنگ میں یہ ایک پیشگوئی ہے جو دو خبر پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ اس اُمت میں بھی ایک مسیح موعود پیدا ہوگا اور دوسری یہ پیشگوئی ہے کہ بعض لوگ اس امت میں سے اُس کی بھی تکفیر اور توہین کریں گے اور وہ لوگ مورد غضب الہی ہوں گے ﴿۴﴾ اور اس وقت کا نشان یہ ہے کہ فتنہ نصاریٰ بھی اُن دنوں میں حد سے بڑھا ہوا ہوگا جن کا نام ضالین ہے اور ضالین پر بھی یعنی عیسائیوں پر بھی اگر چہ خدا تعالیٰ کا غضب ہے کہ وہ خدا کے حکم کے شنوا نہیں ہوئے مگر اس غضب کے آثار قیامت کو ظاہر ہوں گے ۔ اور اس جگہ مغضوب علیهم سے وہ لوگ مراد ہیں جن پر بوجہ تکفیر و توہین و ایذا و ارادہ قتل مسیح موعود کے دنیا میں ہی غضب الہی نازل ہوگا ۔ یہ میرے جانی دشمنوں کیلئے قرآن کی پیشگوئی ہے۔ یا د رکھنا چاہیے کہ اگر چہ جو شخص راہ راست کو چھوڑتا ۔ اہے ۔ وہ خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے آتا ہے مگر خدا تعالیٰ کا اپنے مجرموں سے دو قسم کا معاملہ ہے ۔ اور مجرم دو قسم کے ہیں (۱) ایک وہ مجرم ہیں جو حد سے زیادہ نہیں بڑھتے اور گو نہایت درجہ کے تعصب سے ضلالت کو نہیں چھوڑتے مگر وہ ظلم اور - وہ ایزا کے طریقوں میں ایک معمولی درجہ تک رہتے ہیں اپنے جو روستم اور بے باکی کو انتہا تک نہیں پہنچاتے ۔ پس وہ تو اپنی سزا قیامت کو پائیں گے اور خدائے حلیم اُن کو اس جگہ نہیں پکڑتا کیونکہ ان کی روش میں حد سے زیادہ سختی نہیں۔ لہذا ایسے گناہوں کی سزا کے لئے صرف ایک ہی حدیثوں میں صاف طور پر یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ مسیح موعود کی بھی تکفیر ہوگی ۔ اور علماء وقت اُس کو کافر ٹھہرائیں گے اور کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح ہے اس نے تو ہمارے دین کی بیخ کنی کر دی ۔ منہ