نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 14

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۴ نور الحق الحصة الأولى سے قبوله ولا مفرّ منه۔ مثلا جاء في حديث رسول الله صلى الله عليه اس کے قبول کرنے سے چارہ نہیں اور اس سے کوئی گریز گاہ نہیں مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسلم لا عَدْوَى۔ أى لا تُجاوِزُ علةٌ من مريض إلى غيره، ولا يُعدى نے فرمایا ہے کہ لاعـــــــدوی بیچنے ایک مرض دوسرے کو نہیں لگتی یعنے تجاوز نہیں کرتی ایک چیز دوسری تک شيء شيئا، ولكن التجارب الطبية قد أثبتت خلاف ذلك، ونحن لاکن طبی تجارب سے اس کے مخالف ثابت ہو گیا اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں نرى بأعيننا أن بعض الأمراض، مثلا داء الجمرة التي يُقال لها في کہ بعض مرضیں مثلاً آتشک کی بیماری ایک دوسرے کو لگ جاتی ہے الفارسية آتشك يُعدى من امرأة مُبتلاة بهذا المرض رجلا اور ایک آتشک زدہ عورت سے مرد کو آتشک ہو جاتی ہے اور ایسا ہی مرد سے عورت ينكحها وبالعكس۔ وكذلك نرى فى عمل الإبرة الذي مبنى کو اور یہی صورت ٹیکا لگانے میں بھی مشاہدہ ہوتی ہے کیونکہ جس پر چیچک والے کے خمیر سے ٹیکا کا عمل علی خمیر مادة مجدَّرٍ فإنه يُبدى آثار الجدري في المعمول فيه۔ کیا جاوے اس کے بدن پر بھی آثار چیچک ظاہر ہو جاتے ہیں پس یہی تو عدولی ہے سو ہم کیوں کر اس کا فهذا هو العدوى، فكيف ننكره؟ فإن إنكاره إنكار علوم حسّية انکار کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کا انکار علوم حسیہ بدیہیہ کا انکار ہے جو تجارب طبیہ سے بديهية التي ثبتت عند مُجرّبى صناعة الطبّ، وما بقي فيها شك ثابت ہو چکے ہیں اور ان میں ان بچوں کو بھی شک نہیں رہا جو کوچوں میں کھیلتے پھرتے ہیں للأطفال اللاعبين فى السكك فضلا عن رجال عاقلين۔ فلا بد لنا من چہ جائے کہ عقلمند مردوں کو کچھ شک ہو پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ أن نؤوّل هذا الحديث ونصرفه إلى معان لا تخالف الحقيقة الثابتة ہم اس حدیث کی تاویل کریں اور ان معانی کی طرف پھیر دیں جو ثابت شدہ حقیقت کے مخالف نہیں