نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 15

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۵ نور الحق الحصة الأولى وإن لا نفعل كذلك فكأنا دعونا كل مخالف ليضحك علينا وعلى اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو گویا ہم ایک مخالف کو بلائیں گے تا وہ ہم پر اور ہمارے مذہب پر ٹھٹھا کرے اور اس صورت میں مذهبنا، فإذن أيدنا الساخرين۔ فنقول في تأويل هذا الحديث إن ہم ٹھٹھا کرنے والوں کے مددگار ٹھہریں گے۔ پس ہم اس حدیث کی تاویل یوں کریں گے کہ رسول اللہ رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أراد من قوله لا عَدْوَى نَفْيَ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول لا عدوئی میں ہرگز یہ ارادہ نہیں کیا کہ من کل الوجوه السراية من كل الوجه، وكيف وقد حذّر من المجذومين في حديث ایک کی مرض دوسرے میں سرایت نہیں کرتی اور کیونکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کہہ سکتے تھے جبکہ آپ نے ایک آخر۔ فما كان مراده من هذا القول من غير أن التأثيرات كلها بيد دوسری حدیث میں مجذوموں سے پر ہیز کرنے کے لئے ممانعت فرمائی ہے اور ان کے چھونے سے ڈرایا پس آنحضرت صلعم کی اس حدیث الله تعالى، ولا مؤثّر فى هذا العالم الدائر بالكون والفساد إلا بحكمه سے بجز اس کے کوئی مراد نہیں تھی کہ تمام تاثیریں عدولی وغیرہ کی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور بجز اس کے حکم اور ارادہ اور مشیت وإرادته ومشيئته۔ وإذا أوّلنا كذلك فتخلصنا من شبهات المعترضين۔ کے اس عالم کون اور فساد میں کوئی مؤثر نہیں اور جبکہ ہم نے یہ تاویل کی تو ہم نے اعتراض کرنے والوں کے اعتراضوں سے رہائی پائی اور والذي نفسي بيده۔ إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أراد قط في مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ رسول اللہ صلعم نے اس مقام اور اس کے مشابہ دوسرے هذا المقام وأمثاله من نزول عيسى وغيره إلا معاني تأويلية * مقاموں میں جیسے نزول حضرت عیسے وغیرہ میں بجز تاویلی معنوں کے اور کبھی مراد نہیں لئے (الفائدة) لو كان المراد من نزول عيسى نزوله بذاته لقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اگر نزول عیسی سے مراد در حقیقت عیسیٰ کا ہی آنا ہوتا تو آپ یہ فرماتے کہ أنه سيرجع وما قال انه سينزل فان لفظ الرجوع مناسب للذى يقدم بعد الذهاب۔ منه واپس آئے گا نہ یہ کہ اترے گا کیونکہ جانے کے بعد جو شخص آوے اس کو واپس آنا کہتے ہیں نہ اترنا ۔ منہ