نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 13

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۳ نور الحق الحصة الأولى بما فيه صدقا وحقا، فأي حرج عليه وأَيِّ ضَيْرٍ إِن ترك روايات باتوں پر ایمان لایا اور سچ اور حق سمجھ لیا پس اس پر کونسا حرج اور کونسا مضائقہ ہے اگر وہ ایسی روایتوں کو أخرى التي تخالف بيناتِ القرآن وليست ثابتة من رسول الله بثبوت چھوڑ دے جو قرآن کے کھلے کھلے بیانات کی مخالف ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے قطعی اور قطعى يقيني الذي يُساوى ثبوت القرآن وتواتره، أو ترك مثلا معاني یقینی طور سے ثابت نہیں جو قرآن کے ثبوت اور تواتر سے برابری کر سکے یا مثلاً کوئی ایسے معانی ترک کرے تخالف نصوصه، واختار الموافق ولو بالتأويل؟ بل هذا من سير جو نصوص قرآنیہ کے مخالف ہیں اور وہ معنے اختیار کرے جو اس کے موافق ہیں اگر چہ تاویل سے ہی سہی بلکہ یہ تو الصالحين المتقين ومِن سِير الصدّيقة رضى الله عنها أم المؤمنين۔ نیک بختوں اور متقیوں کا طریق ہے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ما در مومناں کے طریق اور خصلت میں سے فالواجب على المؤمن المسلم المتورع الذى يتقى الله حق التقاة، أن (١٠) ہے پس ایسے شخص پر جو مومن مسلمان پر ہیز گار ہے اور خدا سے جیسا کہ حق ڈرنے کا ہے ڈرتا ہے واجب ہے۔ يعتصم بحبل الله القرآن ولا يبالى غيره الذي يخالفه، وإذا رأى جو حبل اللہ سے جو قرآن ہے پنجہ مارے اور اس کے غیر کی کچھ پرواہ نہ کرے جو اس کا مخالف ہے اور جب دیکھے اور جب وانكشف عليه أن بعض العلماء من السلف أو الخلف غلطوا في فهم اس پر کھلے کہ بعض علماء سلف میں سے یا خلف میں سے کسی بات کے سمجھنے میں غلطی میں پڑ گئے ہیں أمر فليس من ديانته أن يتبع أغلاطهم، ويقبلها بغض البصر، ولا تو اس کی دیانت سے بعید ہوگا کہ ان کی غلطیوں کی پیروی کرے اور آنکھ بند کرکے ان کو يفارقها بتفهيم مُفهّم ، ويرسو عليها أبدًا ، ولا يلتفت إلى الحق الذي قبول کر لیوے اور کسی سمجھانے والے کے سمجھانے سے باز نہ آوے اور ہمیشہ انہیں غلطیوں پر اڑا رہے اور اس حصحص والرشد الذي تبيّن۔ فإن أمرًا إذا ثبت فلا بد من سچائی کی طرف جو کھل گئی اور اس ہدایت کی طرف جو ظاہر ہو گئی التفات نہ کرے کیونکہ جب ایک امر ثابت ہو گیا تو