نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 153

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۵۳ نور الحق الحصة الأولى الأجنبية بل كلها نتائج خاطرى وثمار شجراء فكرى؛ وما فعلت هذا إلا اجنبيه نہیں لایا بلکہ وہ سب میری طبیعت کے نتیجے اور میری زمین کے پھل ہیں اور میں نے یہ اس لئے کیا کہتا الأسبر به غور عقلك و مقدار فضلك وأرى مبلغ علمك وعذوبة تیری عقل کا عمق اور تیری فضیلت کا مقدار آزماؤں اور تیرا اندازہ علم اور شیرینی کلام کو دیکھوں منطقك، وأُرِي الخَلْقَ أَإنك صادق في دعواك وأهل لبلواك، وهل کیا تو اپنے دعوی میں سچا اور اپنے شور و شر کا اہل ہے اور کیا تجھے حق ہے کہ تو لك حق أن تصول على كتاب الله القرآن وبلاغته وسفر الله الرحمن کتاب اللہ قرآن پر حملہ کرے اور خدا تعالیٰ کے صحیفوں کی بلاغت اور اس کے میدان کشتی گاہ کی نسبت نکتہ چینی کرے ورياغته كما أنت زعمت أو من الكاذبين الدجالين۔ وإني ألهمت من ربي سومیں نے چاہا کہ دیکھوں کہ تو اپنے دعووں میں سچا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے اور مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام أنك لا تقدر على هذا النضال، ويبدى الله عجزك ويخزيك ويُثبت ہوا ہے کہ تو اس مقابلہ پر قادر نہیں ہوگا اور خدا تعالیٰ تیرا عجز ظاہر کر دے گا اور تجھے رسوا کر دے گا اور ثابت کرے گا کہ تو أنك أسير في الجهل والضلال، ولو اجتمعت قومك معك على هذا گمراہی میں اسیر ہے اور اگرچہ تیری قوم اس خیال مقابلہ میں تجھ سے متفق ہو جائے مگر آخر تم الخيال، فترجعون مغلوبين۔ هذا مع اعترافى بأن هذه الرسالة ليست سباق مغلوب ہو جاؤ گے یہ باوجود میرے اس اقرار کے ہے کہ یہ رسالہ اپنی بلاغت میں کوئی اعلیٰ درجہ کے الغايات في توشيح المقال، بل اقتضبتها على جناح الاستعجال، وأعلم کمال پر نہیں بلکہ میں نے جلد جلد اس کو گھسیٹ دیا ہے اور میں جانتا ہوں أن الإتيان بمثلها أمر هين على الأدباء ، بل يكفي في هذا أدنى التفات (۱۱۵) کہ اس کی نظیر بنانا ادبیوں پر بہت ہی آسان ہے بلکہ اُن کی ادنی التفات اس کی البلغاء ۔ فإن اتسعت في الأدب فليس من التعجب أن تقول أحلى نظیر بنانے کے لئے کافی ہے پس اگر تو فن ادب میں وسیع مہارت رکھتا ہے تو کچھ تعجب نہیں کہ اس سے زیادہ تر شیریں