نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 152

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۵۲ نور الحق الحصة الأولى بعلم قطعى أنك لا تعلم العربية، ولا تستطيع أن تخترق في مسالكها کے ساتھ جان لیا کہ تو زبان عربی بالکل نہیں جانتا اور تجھے طاقت نہیں کہ اس کے کوچوں میں چل سکے اور اس کی و تنصلت في سبلها وسككها، وما فيك إلا حُمَةُ لاسع، لا حميم فهم تنگ راہوں میں گزر سکے اور تجھ میں تو صرف نیش نیش زنندہ ہے اور ایک قطرہ بھی علم وسیع کے مینہ میں سے تیرے واسع، فلا تَفْجُسُ ولا تَعْلُ يا أسفل السافلين۔ أأنت مع جهلك هذا پاس نہیں ہے پس تو اے اسفل السافلین بزرگ منشی مت دکھلا ۔ کیا تو با وجود اپنی اس نادانی کے قرآن میں جرح قدح تقدح في القرآن، وتزرى على كتاب فاق فصاحته نوع الإنسان، ولا کرتا ہے اور اس کتاب کا عیب ڈھونڈتا ہے جس کی فصاحت نوع انسان کی فصاحتوں پر غالب آ گئی اور تری صورتك ولا تنظر إلى مبلغ علمك يا مضيع العقل والدين؟ وإن اپنی شکل کو نہیں دیکھتا اور اپنے اندازہ علم کی طرف نگاہ نہیں کرتا اے دین اور عقل کے دشمن یہ تو کیا کرتا ہے۔ اور اگر تو کنت تحسب نفسك شيئا من الأشياء ، وتظن أنك من الأدباء ، فها أنا اپنے نفس کو کچھ چیز سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ تو بھی ایک ادیبوں میں سے ہے پس خبر دار ہو جا کہ تیری پتھری کی آگ قمت لاستبراء زَندِك، واستشفافِ فِرِندِک، و ابتدعت هذه الرسالة | نکالنے کے لئے میں کھڑا ہو گیا ہوں اور تیری تلوار کا جو ہر دیکھنے کے لئے میں اٹھا ہوں اور اس رسالہ عجالہ کو العجالة في العربية لهذه الأغراض الضرورية، وهي تحتوى على غُرر البيان میں نے عربی میں اسی غرض سے تالیف کیا ہے اور یہ رسالہ نادر اور چمکیلے بیانوں سے پُر ہے جو موتیوں ودرره، وملح الأدب ونوادره، ووشحتها بمحاسن الكنايات وبترصيع لآلي کی طرح ہیں اور نیز ادب کی نمکین عبارتوں پر مشتمل ہے اور میں نے اس کو بہت عمدہ کنایات اور نکات لطیفہ النكات في العبارات، وفيها كثير من الأمثال العربية، واللطائف الأدبية کے موتیوں سے موشح اور مرصع کیا ہے اور اس میں امثال عربیہ بہت ہیں اور لطائف والأشعار المبتكرة، والقصائد المحبرة، ولم أودعها من الأشعار ادبیہ بکثرت ہیں اور اسی طرح اشعار نو طرز اور خوبصورت قصیدے بھی اس میں ہیں اور میں اس کتاب میں اشعار