نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 91

روحانی خزائن جلد ۸ ۹۱ نور الحق الحصة الأولى سقوا كأس المنايا ثم سيقوا إلى نار تلوح وجه جانی موت کے پیالے ان کو پلائے گئے اور پھر وہ اس آگ کی طرف کھینچے گئے جو مجرم کا منہ جلاتی تھی فهذا أجر جهل الجاهلينا من الرحمن عند الاستنان سو یہ جاہلوں کے جہل کی سزا تھی یہ سزا خدا تعالی کی طرف سے اس وقت ہوئی جب انہوں نے فسادوں اور ظلموں میں دوڑنا اختیار کیا وما كان الرحيم مُذِلَّ قوم ولكـــن بـعـد ظـلـم وافـتـنـان اور خدائے رحیم کسی قوم کو ذلیل نہیں کرتا مگر اس وقت جبکہ ظلم اور فتنہ اندازی اختیار کرے وهل حدثتَ مِن أنباء أمم رأوا قبحا بأفعال حسان کیا ایسی قوموں کی تجھے کچھ خبر ہے جن کو نیکی کرتے کرتے بدی پیش آئے وكل النور في القرآن لكن يميل الهالكون إلى الدخان اور تمام اور ہر ایک قسم کے نور قرآن ہی میں ہیں مگر مرنے والے دھوئیں کی طرف دوڑتے ہیں به نلنا ترات الكاملينا به سرنا إلى أقصى المعاني ہم نے اس کے وسیلہ سے کاملوں کی وراثت پائی ہم نے اس کے وسیلہ سے حقیقتوں کے اخیر تک سیر کیا فقم واطلب معارفه بجهدٍ وخَفْ شر العواقب والهوان پس اٹھ اور کوشش کے ساتھ اس کے معارف طلب کر اور انجام بد اور ذلت کی بدیوں سے خوف کر أتخطب عزة الدنيا الدنية أتطلب عيشها والعيش فاني کیا تو اس دنیا ناکارہ کی عزتوں کا طالب ہے کیا تو اس دنیا کے عیشوں کو ڈھونڈتا ہے اور اس کے تمام عیش فانی ہیں أترضى يا أخى بالخان حمقًا وتنسى وقت تبــــديـل المكان اے بھائی کیا تو سرائے میں رہنے میں اپنے حمق سے راضی ہو گیا اور اس وقت کو بھلا دیا جو تبدیل مکانی کا وقت ہے على بستان هذا الدهر فأس فكم شجر يجاح من الإهان اس دنیا کے باغ پر تبر رکھا سو بہت سے درخت جڑ سے اکھیڑے جارہے ہیں وكم عنق تكسرها المنايا وكم كفّ وكم حسن البنان ﴿٢٨﴾ ہے اور موتیں بہت سی گردنوں کو توڑ رہی ہیں اور بہت ہتھیلیاں اور بہت سی خوبصورت پوریں ٹوٹی چلی جاتی ہیں