نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 90

روحانی خزائن جلد ۸ ۹۰ نور الحق الحصة الأولى فمن عجب أكبوا مثلَ مَيْتٍ وقد مــرنــوا عـلـى لطف البيــــان سو یہ تعجب کی بات ہے کہ وہ مردہ کی طرح منہ کے بل جاپڑے حالانکہ وہ فصیح کلمات کی مشق اور عادت رکھتے تھے وأنزله مهيمننا حُدَيًّا ففروا كلهم كالمستهـان اور خدا تعالیٰ نے اس کو بے مثل اور طالب معارض نازل کیا پس کفار اس کی مثل بنانے پر قادر نہ ہو سکے اور سرگردان ہوکر بھاگ گئے وصارت عُصُبُهم فِرقًا تُبَيِّنًا فمنهـم مـن أتـي بـعـد الحران اور ان کی جماعتیں کئی فرقے متفرق ہو گئے پس بعض ان میں سے تو سرکشی سے باز آگئے ومنهم من تلبّب مستشيطًا لحـرب الـصـــادقـيـن ولـلطـــان اور بعض نے قرآن کے مقابلہ سے عاجز آ کر ہتھیار باندھے اور غضب میں آ کر راستبازوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے فأنتم قد سمعتم ما أصيبوا بضعضعة السيوف من الهوان سو تم سن چکے ہو کہ ان کو کیا کیا سزائیں ملیں اور تلواروں کی سرکوبی سے کیسی ذلت اٹھائی وكان جزاء سل السيف سَيْفًا فذاقوا ما أذاقـــــوا كـالـجـبـان اور تلوار کھینچنے کا بدلہ تلوار ہی تھی سو جو کچھ انہوں نے مسلمانوں کو چکھایا وہ آپ ہی بزدل ہو کر چکھنا پڑا یعنی تلوار کھینچنے والے تلوار سے ہی مارے گئے إذا دارت رحى البلوى عليهم فكانوا لُهُوَةً فوق الدِّهانِ اور جبکہ سختی کی چکی ان پر چلی سو ایسے ہو گئے جیسا کہ آٹے کی ایک مٹھی چکی کے اس سرخ چمڑے پر ہوتی ہے جو چکی کے نیچے بھلا جاتا ہے فطفقوا يهربون كمثل جبن فأخــــذوا ثم قتلوا مثل ضان سو انہوں نے ایک نامرد کی طرح بھاگنا شروع کیا پس پکڑے گئے اور بھیڑوں کی طرح قتل کئے گئے إذا ما شاهدوا قتلى كقنن فرفعوا طاعةً عَلَمَ الأمان اور جبکہ انہوں نے اپنے مقتولوں کو ٹیلوں کی طرح دیکھا تب انہوں نے امان طلب کرنے کے لئے جھنڈیاں اٹھا ئیں (۲۷) سراة الحي جاءوا نادمينا فرحم المصطفى بحر الحنان اور قبیلہ کے سردار شرمندہ ہو کر آئے پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دریائے بخشش ہے ان کا گناہ معاف کیا وأما الــجــاهـــــلــون فما أطاعوا فأعـدمـهـم فـؤوس الاحتفان مگر جاہلوں نے ان کا حکم نہ مانا سو بیخ کنی کے تیروں نے ان کو معدوم کیا