نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 92

روحانی خزائن جلد ۸ ۹۲ نور الحق الحصة الأولى ترى في ساعة سُرَرًا الرجُل وفى الأخرى تراه على الإران اور و یہ تماشا دیکھ رہا ہےکہ ایک گھڑی ایک مرد کے لئے کئی تخت بچھے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر دوسری گھڑی میں وہی مرد تا بوت مردہ پر پڑا ہوا ہوتا ہے وإني ناصح خل أمين ويدری نــــور عـلــمــی مــن یـرانی اور میں ایک نصیحت دینے والا دوست اور امین ہوں اور جو شخص مجھے دیکھے وہ میرے نور علم کو معلوم کر لے گا يُكرم جاهل قبل ابتلاء وقــدر الـحـــبـر بـعد الامتحان جاہل کی تعظیم آزمائش سے پہلے ہوتی ہے اور دانا آدمی کی تعظیم اس کے امتحان کے بعد کی جاتی ہے و كفرني عدو الحق حمقا فقلتُ احسا، يراني من هداني اور ایک سچ کے دشمن نے مجھے کافر ٹھہرایا سو میں نے کہا دفع ہو جس نے مجھے ہدایت دی وہ مجھے دیکھ رہا ہے صوارمه على مسللات وإني نحو وجه الحب راني اس دشمن کی تلواریں میرے پر کھینچی ہوئی ہیں اور میں اپنے پیارے اللہ کی طرف دیکھ رہا ہوں وإني قد وصلت رياض حبّى ويطلبني خصيمي في المحاني اور میں اپنے پیارے کے باغوں میں پہنچا ہوا ہوں اور دشمن مجھے جنگلوں میں تلاش کر رہا ہے هويت الحب حتى صار روحي وأرنــانـي جــنــانـي فـي جنـاني میں نے اس پیارے سے محبت کی یہاں تک کہ وہ میری جان ہو گیا اور میرا بہشت اس نے میرے دل میں ہی دکھا دیا بوجه الحِبّ لستُ حريص مُلكٌ كفانى ما أرى نفسي كفاني اس پیارے کی قسم ہے کہ میں کسی ملک کا حریص نہیں اور یہ میرے لئے کافی ہے کہ میں اپنے نفس کو فنا کی حالت میں دیکھتا ہوں عمود الخشب لا أبغى لسقفى وحبى صـــــــار لـي مثل البوان میں لکڑی کے ستون اپنے چھت کے لئے نہیں چاہتا اور میرا پیارا میرے لئے ایسا ہو گیا ہے جیسا کہ ستون ورثنا المجد من ذى المجد حقًا وصُبِّغُنا بمحبوب مقانی ہم نے بزرگی کو خدائے ذی الحجد سے پایا اور اس ملنے والے پیارے کے رنگ سے ہم رنگے گئے دخلت النار حتى صرت نارًا و نخلی فاق أفكار الأفاني میں آگ میں داخل ہوا یہاں تک کہ میں آگ ہی ہو گیا اور میری کھجور گھات پات کے فکروں سے بہت بلند بڑھ گئی