نورالحق حصہ اوّل — Page 89
روحانی خزائن جلد ۸ ۸۹ نور الحق الحصة الأولى وما أدراك ما القرآن فيضًا خفير جــــالـب نحو الجنان اور تو کچھ جانتا ہے کہ قرآن فیض کے رو سے کیا شے ہے وہ ایک راہبر ہے جو بہشت کی طرف کھینچتا ہے له نوران نور من علوم ونور مـن بيــــان كـالـجــمــان اس میں دو نور ہیں ایک تو علوم کا نور اور دوسرے فصاحت اور بلاغت کا نور جو دانہ نقرہ کی طرح چمکتا ہے كلام فائق ما راق طرفی جـــمـــال بعده والنيران وہ ایک ایسا کلام ہے جو ہر یک کلام سے فوقیت لے گیا اور اس کے بعد مجھے کوئی جمال اچھ معلوم نہ ہو اور آفتا اور قمر بھی اچھے دکھائی نہ دئے أياة الشمس عند سَناه دَخْنٌ وما لِلعُل والسبت اليماني آفتاب کی روشنی اس کی چمک کے آگے ایک دھواں سا ہے اور محل سے نری کے سرخ چمڑے کو نسبت ہی کیا ہے گو یمن کی ساخت ہو وأين يكون للقرآن مثل وليس لـــــه بهذا الفضل ثاني اور قرآن کی مثال کوئی دوسری چیز کیوں کر ہو کیونکہ وہ تو اپنے فضائل میں بے مثل ہے ورثنا الصُّحُفَ فاقتُ كلَّ كُتُبِ وسبـقــت كـل أسـفـــــار بـشـان ہم اس کتاب کے وارث بنائے گئے جو سب کتابوں پر فائق ہے ایسی کتاب جو اپنے کمالات میں تمام کتابوں پر سبقت لے گئی ہے وجاءت بعد ماخرت خيام وخُـربـت البيوت مع المباني اور اس وقت آیا جب کہ سب پہلے خیمے منہ کے بل گر چکے تھے اور تمام گھر مع بنیاد کی جگہوں کے خراب ہو چکے تھے محت كل الطرائق غيرَ بِرِّ وجدتُ رأس بــدعــات الـزمـــان هر یک راہ کو بغیر نیکی کے راہ کے معدوم کر دیا اور ان تمام بدعتوں کا سرکاٹ دیا جو زمانہ میں شائع تھیں كان سيوفها كانت كنار بها حرقت مخاريق الأداني (٢٢) گویا اس کی تلواریں ایک آگ کی طرح تھیں ان سے وہ تمام گر کے جل گئے جو سفلہ لوگوں کے ہاتھ میں تھے إذا استدعى كتاب الله مثلا فعى الـقـوم واستــتــروا كفاني جب کتاب اللہ نے اپنی مثل کا مطالبہ کیا سو قوم مقابلہ سے عاجز ہوگئی اور فنا شدہ چیز کی طرح چھپ گئی وسلبت جرأة الإسناف منهم من الهـــول الذي حلّ الجنان اور پیش قدمی کی ہمت ان سے مسلوب ہوگئی اور یہ ہیبت الہی تھی جو ان کے دل میں بیٹھ گئی