مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 476 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 476

۱۵۶ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۶ تریاق القلوب ثابت ہے کہ ایلیا کی نبی کی خو اور طبیعت پر آ گیا اور جیسا کہ ہمارے نبی علیہ السلام حضرت ابراہیم کی خو اور طبیعت پر آئے یا اسی سر کے لحاظ سے یہ ملت محمدی ابراہیمی ملت کہلائی ۔ سو ضرور تھا کہ مرتبہ آدمیت کی حرکت یہ محقق امر ہے کہ ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خُو اور طبیعت پر آئے تھے مثلاً جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توحید سے محبت کر کے اپنے تیں آگ میں ڈال لیا اور پھر قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلْما کی آواز سے صاف بچ گئے ۔ ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تئیں تو حید کے پیار سے اس فتنہ کی آگ میں ڈال لیا جو آنجناب کے بعث کے بعد تمام قوموں میں گویا تمام دنیا میں بھڑک اُٹھی تھی اور پھر آواز وَاللهُ يَعْصِمُكَ ۔ مكَ مِنَ النَّاسِ " سے جو خدا کی آواز تھی اس آگ سے صاف بچائے گئے ۔ ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بتوں کو اپنے ہاتھ سے توڑا جو خانہ کعبہ میں رکھے گئے تھے ۔ جس طرح حضرت ابراہیم نے بھی بتوں کو توڑا اور جس طرح حضرت ابراہیم خانہ کعبہ کے بانی تھے۔ ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کی طرف تمام دنیا کو جھکانے والے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کی طرف جھکنے کی بنیاد ڈالی تھی لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بنیاد کو پورا کیا ۔ آپ نے خدا کے فضل اور کرم پر ایسا تو کل کیا کہ ہر ایک طالب حق کو چاہیے کہ خدا پر بھروسہ کرنا آنجناب سے سیکھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس قوم میں پیدا ہوئے تھے جن میں تو حید کا نام ونشان نہ تھا اور کوئی کتاب نہ تھی ۔ اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس قوم میں پیدا ہوئے جو جاہلیت میں غرق تھی اور کوئی ربانی کتاب ان کو نہیں پہنچی تھی ۔ اور ایک یہ مشابہت ہے کہ خدا نے ابراہیم کے دل کو خوب دھویا اور صاف کیا تھا یہاں تک کہ وہ خویشوں اور اقارب سے بھی خدا کے لئے بیزار ہو گیا اور دنیا میں بجز خدا کے اس کا کوئی بھی نہ رہا۔ ایسا ہی بلکہ اس سے بڑھ کر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر واقعات گذرے اور باوجود یکہ مکہ میں کوئی ایسا گھر نہ تھا جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی الانبياء : ٢٧٠ المائدة : ٦٨