مسیح ہندوستان میں — Page 477
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۷۷ تریاق القلوب ا دوری زمانہ کے انتہا پرختم ہوتی ۔ سو یہ زمانہ جو آخر الزمان ہے ۔ اِس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو حضرت آدم علیہ السلام کے قدم پر پیدا کیا جو یہی راقم ہے اور اس کا نام بھی آدم رکھا ۔ جیسا کہ مندرجہ بالا الہامات سے ظاہر ہے اور پہلے آدم کی طرح خدا نے اس آدم کو بھی زمین کے حقیقی انسانوں سے خالی ہونے کے وقت میں اپنے دونوں ہاتھوں جلالی اور جمالی سے پیدا شعبہ قرابت نہ تھا۔ مگر خالص خدا کی طرف بلانے سے سب کے سب دشمن ہو گئے اور بجز خدا کے ایک بھی ساتھ نہ رہا۔ پھر خدا نے جس طرح ابرہیم کو اکیلا پا کر اس قدر اولا د دی جو آسمان کے ستاروں کی طرح بے شمار ہو گئی اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلا پا کر بے شمار عنایت کی اور وہ صحابہ آپ کی رفاقت میں دیئے جو نجوم السماء کی طرح نہ صرف کثیر تھے بلکہ ان کے دل توحید کی روشنی سے چمک اٹھے تھے۔ غرض جیسا کہ صوفیوں کے نزدیک مانا گیا ہے کہ مراتب وجود دور یہ ہیں اسی طرح ابراہیم علیہ السلام نے اپنی خو اور طبیعت اور دلی مشابہت کے لحاظ سے قریباً اڑھائی ہزار برس اپنی وفات کے بعد پھر عبداللہ پسر عبد المطلب کے گھر میں جنم لیا اور محمد کے نام سے پکارا گیا صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اور مراتب وجود کا دور یہ ہونا قدیم سے اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی سنت اللہ میں داخل ہے۔ نوع انسان میں خواہ نیک ہوں یا بد ہوں یہی عادت اللہ ہے کہ ان کا وجود خو اور طبیعت اور تشابہ قلوب کے لحاظ سے بار بار آتا ہے جیسا کہ آیت تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ اس کی مصدق ہے اور تمام صوفیوں کا یہ خیال ہے کہ اگر چہ مراتب ۱۵۶ ے - L وجود دوری ہیں مگر مہدی معہود بروزات کے لحاظ سے پھر دنیا میں نہیں آئے گا کیونکہ وہ خاتم الاولاد ہے اور اس کے خاتمہ کے بعد نسل انسانی کوئی کامل فرزند پیدا نہیں کرے گی باستثناء ان فرزندوں کے جو اس کی حیات میں ہوں کیونکہ بعد میں بہائم سیرت لوگوں کا غلبہ ہوتا جائے گا۔ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی محبت بالکل دلوں سے جاتی رہے گی اور نفس پرست اور شکم پرست بن جائیں گے۔ یہ بعض اکابر اولیاء کے مکاشفات ہیں اور اگر احادیث البقرة : ١١٩