محمود کی آمین — Page 248
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۴۶ حجة الله ۹۸) وقد كنتُ لِلهِ الَّذى كَانَ مَلْجَأَى وذلك سر بين روحي ومزعقی اور میں اس خدا کے لئے ہو گیا جو میری پناہ ہے اور یہ بھید ہے مجھ میں اور میری فریادگاہ میں رأيتُ وجوها ثم آثرتُ وَجْهَهُ فواها له ولوجهه المتألق میں نے کئی منہ دیکھے پس اس کا منہ اختیار کر لیا پس کیا اچھا وہ ہے اور کیا اچھا ہے اس کا منہ چمکنے والا أحِبُّ بروحي فالق الحب والنوى وإنّي لأَوَّلُ مَن نَوَى كلَّ مُلْزَقِ میں اپنی ان کے ساتھ اسکو دوست رکھتاہوں جو دان اس کے جم سےعلیحدہ کرنے والا ہے اور میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے ہر ایک پیوستہ کو پھینک کر دیا ہی ہے ولله أسرار بعاشق وجهه فسَلُ مَن يشاهد بعض هذا التعلق | اور خدا کو اس کے عاشق کے ساتھ بھید ہیں پس اس شخص سے پوچھ جو اس تعلق کو دیکھنے والا ہے الحبي خواص في الوصالِ وفرقة ففى القُرب يحييني وفي البعد يُوبِقِ میرے دوست کے لئے وصال اور جدائی میں خواص ہیں پس وہ قرب میں زندہ کرتا ہے اور دوری میں ہلاک کرتا ہے و أُعطيتُ من حبّى قميص خلافة قميص رسول الله أبيض أمهق اور میں اپنے پیارے کی طرف سے قمیص خلافت دیا گیا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قمیص جو بہت سفید ہے وأُعطيتُ عَلَم الفتح عَلَمَ محمَّدٌ وأُعْطِيتُ سيفًا جَنَّ أَصلَ التَّخَلُّقِ اور میں فتح کا جھنڈا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہے دیا گیا ہوں اور میں وہ تلوار دیا گیا ہوں جس نے جڑ دروغگوئی کی کاٹ دی فتلك علامات علی صدق دعوتى فإن كنت تطلبها ففَتِّش وعمق پس میرے صدق دعویٰ پر یہ علامتیں ہیں پس اگر تو ان علامتوں کو طلب کرتا ہے پس تفتیش کر اور سوچ وإن صراطى مثل جسر على اللظى حفافاه نارٌ فَأْتِني أيها التقى اور میری راہ دوزخ پر پل ہے اور دونوں کنارے اس کے آگ ہے پس اے پر ہیز گار میرے پاس آجا إذا ما تحامتني الأراذل كلهم فأيقنت أن شريف قومي سيلتقى اور جب تمام رزیلوں نے مجھے چھوڑ دیا پس میں نے یقین کیا کہ جو میری قوم کا شریف ہے و ہضر ور مجھ سے ملے گا أرى الله يخزى الفاسقين ويصطفى عبادا له قُتِلُوا بِسَيْفِ التعشق میں دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ فاسقوں کو رسوا کرے گا اور اپنے بندوں کو جو عشق کی تلوار سے قتل کئے گئے چن لے گا ويأتي زمان إن ربّى بفَضْلِهِ يَجُدُّ رؤوس المفسدين ويفرق اور وہ زمانہ آتا ہے کہ میرا رب اپنے فضل سے مفسدوں کے سرکاٹے گا اور جدا کرے گا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے پھینک دیا “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)