کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 630

کتاب البریہ — Page 170

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۷۰ كتاب البرية مخالف پندرہ ماہ کے اندر مر جاوے گا یعنی جو شخص فریقین سے راستی پر نہیں ہے پندرہ ماہ کے اندر رائے موت ہاویہ میں گرایا جاوے گا۔ کتاب جنگ مقدس چھا پہ شدہ پیش کرتا ہوں۔ اور جس جگہ مرزا صاحب نے یہ پیش گوئی لکھی ہے نشان A کر دیا ہے۔ بعد ازیں لوگوں کے خیالات عبداللہ آتھم صاحب کی طرف تھے۔ عبد اللہ آتھم ضعیف آدمی تھا۔ بہت سے آدمی عبد اللہ آتھم کی تیمارداری پر تھے۔ عبداللہ آتھم پر بہت حملہ کئے گئے جس سے اس کو اپنے مکان کی تبدیلی کرنی پڑی۔ وہ امرتسر سے لدہانہ اور لدہانہ سے فیروز پور گیا۔ پیش گوئی کے آخری دو ماہ میں عبداللہ آتھم کی خاص نگرانی بذریعہ پولس کرائی گئی۔ دن رات خاص حملہ جو کیا گیا ایک امرتسر میں ہوا تھا یعنی ایک سانپ کو برا) ایک برتن میں بند کر کے ایک شخص پادری عبد اللہ آتھم عیسائی کے مکان میں ڈال ) گیا۔ گو ہم نے خود نہیں دیکھا۔ مگر یہ امر سچ ہے کہ وہ سانپ مارا گیا تھا۔ اور عام لوگ کہتے تھے۔ مسٹر آتھم نے بھی ہمیں اطلاع دی ہے کہ ایسا ہوا۔ فیروز پور میں دو دفعہ عبداللہ آتھم کی طرف بندوق چلائی گئی۔ اور ایک مرتبہ عبداللہ آتھم کے سونے کے کمرہ کا دروازہ توڑا گیا بقیه حاشیه عرض کریں۔ آخر بعض نے ان میں سے ایک زم تقریر میں عرض کر دیا۔ تب انہوں نے کہا کہ اگر خدا تعالیٰ کو شفا دینا منظور ہو تو اس کی پیدا کردہ اور بھی بہت سی دوائیں ہیں میں نہیں چاہتا کہ اس پلید چیز کو استعمال کروں اور میں خدا کے قضا و قدر پر راضی ہوں آخر چند روز کے بعد اگر واقعی میعاد کے اندر تین حملے ہماری طرف سے ہوئے تھے تو کیا خیال میں آ سکتا ہے کہ آتھم اور اس کے عزیز با وجود تین حملوں کے ایسے چپ رہتے کہ نہ نالش کرتے اور نہ اخباروں میں چھپواتے اور نہ ہمیں ضمانت کے لئے طلب کرواتے بلکہ میعاد گذرنے کے بعد اس وقت شور مچایا کہ جب آٹھم کے ڈر جانے کے بارے میں پانچ ہزار اشتہار ہماری طرف سے نکلا تا کوئی بہانہ ہاتھ آجائے۔ اگر ہمارے اشتہار سے پہلے آتھم کی طرف سے کوئی تحریر شائع ہوئی ہے تو وہ پیش کرنی چاہئے۔ آتھم میعاد کے اندر جب کہ اس پر حملے ہوئے تھے کیوں چپ رہا اور پھر میعاد کے بعد ہمارے اشتہارات سے پہلے کیوں اس کے منہ پر قفل لگا رہا حاضرین جانتے ہیں کہ پیش گوئی کو سنتے ہی آثار خوف اُس پر ظاہر ہو گئے تھے۔ منہ