کتاب البریہ — Page 171
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۷۱ كتاب البرية نقل مطابق اصل مرزا غلام احمد دولت مند آدمی ہے وہ ہمیشہ اپنے دعاوی کے بطلان کرنے کے واسطے بڑی بڑی رقمیں شرطیہ لکھتے ہیں۔ چنانچہ اشتہار معیار الاخیار والاشرار میں پانچ ہزار انعام کا وعدہ انہوں نے ۱۴۲ لکھا ہے۔ مجھ کو علم ہوا ہے کہ وہ بہت روپیہ اپنے پیروان سے حاصل کرتا ہے۔ ڈاک خانہ کی معرفت اس کو بہت روپیہ حاصل ہوتا ہے۔ عبداللہ آتھم کی زندگی پر حملے جو ہوئے وہ عام طور پر مرزا صاحب کی طرف منسوب کئے گئے۔ اخباروں میں اسی طرح درج ہوتا رہا۔ مگر مرزا صاحب نے کبھی ان کی تردید نہیں کی بلکہ ایک طرح پر ہیں کی بلکہ ایک طرح پر خوشی منائی اور یہ اظہار کیا کہ ع یہ اظہار کیا کہ عبداللہ آتھم اسی مرض سے انتقال فرما گئے ۔ موت تو مقدر تھی مگر یہ ان کا طریق تقوی ہمیشہ کے لئے یادگار رہا کہ موت کو شراب پر اختیار کر لیا۔ موت سے بچنے کے لئے انسان کیا کچھ نہیں کرتا لیکن انہوں نے معصیت کرنے سے موت کو بہتر سمجھا۔ افسوس ان بعض نوابوں اور امیروں اور رئیسوں کی حالت ☆ یہ کس قدر صریح دروغ ہے کہ میری طرف سے حملوں کی کوئی تردید نہیں ہوئی۔ میں نے تو صد با اشتہارات اور تین ضخیم کتامیں ۱۴۴ اسی غرض سے شائع کیں کہ اگر میری طرف سے حملے ہوئے ہیں تو آتھم میرے پر عدالت میں نالش کرے یا قسم کھائے۔ بلکہ اسی حجت کے پوری کرنے کے لئے قسم کھانے پر چار ہزار روپیہ دینا بھی کیا۔ سو اس سے زیادہ اس بے ہودہ اور بے اصل الزام کی اور کیا تردید کی جاتی۔ آتھم تو ایسا چپ ہوا کہ کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ میرے دوسرے الہام کے موافق فوت ہو گیا۔ عجیب بات ہے کہ میعاد پیشگوئی کے اندر تین حملے ہوئے ہوں اور آتھم ایسے وقت چپ رہے کہ جب شور و غوغا کرنا اس کا فرض تھا اور پھر میعاد کے بعد بھی میرے اشتہارات کے شائع ہونے تک چپ رہے۔ اور جب اس کو پیش گوئی سے ترساں و لرزاں ہونے پر بار بار ملزم کیا جائے تو اس وقت تین حملے پیش کئے جائیں اور پھر قسم کے لئے بلانے کے وقت بھاگ جائے کہ ہمارے مذہب میں منع ہے اور نہ نالش کرے۔ افسوس پادری صاحبوں کی یہ دیانت ہے۔ ڈاکٹر کلارک اور وارث دین وغیرہ نے عدالت میں قسم کھا کر اس عقیدہ کو بھی حل کر دیا کہ آتھم کا قسم سے انکار کرنا صحت نیت پر مبنی تھایا فسادنیت پر۔ یہ بھی یادر ہے کہ آتھم کو ڈرتے رہنے کا تو اقرار تھا اور تنقیح طلب یہ امر تھا کہ وہ خوف پیش گوئی سے تھا یا حملوں سے۔ سو آتھم نے قسم نہ کھانے اور نالش نہ کرنے اور چپ رہنے سے ثابت کر دیا کہ وہ خوف محض پیش گوئی سے تھا ور نہ دشمن ایک حملہ پر بھی چپ نہیں رہ سکتا۔ چہ جائیکہ تین حملے ہوں ۔ پیش گوئی سے ڈرتے رہنے کا تو صریح ثبوت ہے کہ آتھم نے نہ نالش کی نہ قسم کھائی اور نہ میعاد کے اندر اور اشتہار سے پہلے کچھ شائع کیا لیکن تین جملوں کا کیا ثبوت ہے جن کا بار ثبوت اس کی گردن پر تھا ۔ منہ ۔