کتاب البریہ — Page 169
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۶۹ نقل ڈگلس كتاب البرية بیان مشموله متل با جلاس کپتان ایم ڈبلیوڈ ٹس صاحب بہادر ڈپٹی ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور ۱۴۰ مصدقه عدالت مہر عدالت) سرکار دولتمدار قیصرہ ہند بذریعہ ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب بنام میرزاغلام احمد قادیانی مستغيث جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری بیان ہنری مارٹن کلارک با قرار صالح مستغاث علیہ میں پندرہ سال سے ڈاکٹر مشنری ہوں ۔ ہماری واقفیت مرزا صاحب سے ۱۸۹۳ء سے ہے۔ مسٹر عبد اللہ آتھم اور ان کے درمیان جب مناظرہ مذہبی ہوا تھا میں اس کا موجد تھا۔ مرزا غلام احمد نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے پیشوا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس سے پہلے کہ مناظرہ ہو ہم نے ایک کتاب پیش کی جو مولوی محمد حسین بٹالوی نے لکھی تھی اور اس میں اہل اسلام کے پیشواؤں نے قرار دیا کہ مرزا صاحب مسلمان نہیں ہیں بلکہ کافر ہیں اور دجال کا چا ہیں۔ میں عیسائیوں کی طرف سے پریذیڈنٹ کمیٹی مناظرہ تھا۔ دو مرتبہ عبد اللہ آتھم کی جگہ ہم کو مناظرہ میں بیٹھنا پڑا اور مرزا غلام احمد کو سخت زک اٹھانا پڑا۔ مرزا صاحب نے ا نے اظہار کیا کہ وہ معجزات دکھلاتے ہیں۔ ہم نے ا م نے اندھوں لنگڑوں کو اچھا کرنے کے واسطے کہا جو موجود کئے گئے تھے۔ مگر وہ نہ کر سکے۔ پھر مرزا صاحب نے پیش گوئی کی کہ عیسائی ۱۴۱ بقيه حاشيه کے پائے جاتے ہیں تو میں اسلامی سلطنت کے محفوظ رکھنے کے لئے کوشش کرتا کہ ایام کسل اور نالیاقتی اور بد وضعی ملوک چغتا ئیہ میں اسی کو تخت دہلی پر بٹھایا جائے۔ اس جگہ اس بات کا لکھنا بھی فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ میرے پردادا صاحب موصوف یعنی میرزا گل محمد نے بچکی کی بیماری سے جس کے ساتھ اور عوارض بھی تھے وفات پائی تھی۔ بیماری کے غلبہ کے وقت اطباء نے اتفاق کر کے کہا کہ اس مرض کے لئے اگر چند روز شراب کو استعمال کرایا جائے تو غالبا اس سے فائدہ ہوگا مگر جرات نہیں رکھتے تھے کہ ان کی خدمت میں