خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 35

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۳۵ خطبه الهاميه لَهُ خِفَاءٌ وَلَا مِرَاءٌ - فِي أَنَّ هَذَا إِيْمَاءُ - إِلَى أَنَّ بر و پوشیده نخواهد ماند و دریں امر هیچ نزاعے دامن او نخواهد گرفت که این اشتراک دو معنی که در لفظ نسک موجود پوشیدہ نہیں رہے گا اور اس امر میں کسی قسم کی نزاع اس کے دامن کو نہیں پکڑے گی کہ یہ دو معنوں کا اشتراک کہ جو نسک کے الْعِبَادَةَ الْمُنْجِيَةَ مِنَ الْخَسَارَةِ - هِيَ ذَبْحُ النَّفْسِ (٥) است سوئے ایں راز اشاره است که پرستشی که از خسران آخرت نجات دهد آن کشتن نفس اماره است که برائے بدی لفظ میں پایا جاتا ہے اس بھید کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عبادت جو آخرت کے خسارہ سے نجات دیتی ہے وہ اس نفس امارہ کا الْأَمَّارَةِ - وَنَحْرُهَا بِمُدَى الْإِنْقِطَاعِ إِلَى اللَّهِ و بدکاری بسیار در بسیار جوش با میدارد و حاکمی است بسیار بد فرما پس نجات دریں است که این بد فرما را ذبح کرنا ہے کہ جو بُرے کاموں کیلئے زیادہ سے زیادہ جوش رکھتا ہے اور ایسا حاکم ہے کہ ہر وقت بدی کا حکم دیتا رہتا ہے ذِي الْآلَاءِ وَالْأَمْرِ وَالْإِمَارَةِ - مَعَ تَحَوُّلِ أَنْوَاعِ بکار د ہائے بریدن از خلق و آرمیدن بحق ذبح کنند و از وسوئے خدائے بگریزند که حکومت حقیقی و فرمان روائی بدست قبضه قدرت پس نجات اس میں ہے کہ اس بُرا حکم دینے والے کو انقطاع الی اللہ کے کاردوں سے ذبح کر دیا جائے اور خلقت سے قطع تعلق کر کے الْمَرَارَةِ - لِتَنْجُوَ النَّفْسُ مِنْ مَوْتِ الْغَرَارَةِ - وَ اوست و با این همه از بهر این کارگو ناگون تلخی ها را باید برداشت تا نفس از موت غفلت نجات یابد خدا تعالیٰ کو اپنا مونس اور آرام جان قرار دیا جائے اور اسکے ساتھ انواع اقسام کی تلخیوں کی برداشت بھی کی جائے تا نفس غفلت هَذَا هُوَ مَعْنَى الْإِسْلَامِ - وَحَقِيْقَةُ الْإِنْقِيَادِ التَّامِ و ہمیں است معنی اسلام و همین ست حقیقت اطاعت کامله کی موت سے نجات پاوے اور یہی اسلام کے معنے ہیں اور یہی کامل اطاعت کی حقیقت ہے وَالْمُسْلِمُ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - وَ و مسلمان آنکس است که برائے خدا تعالی گردن خود از بهر ذبح شدن نهاده باشد اور مسلمان وہ ہے جس نے اپنا منہ ذبح ہونے کیلئے خدا تعالیٰ کے آگے رکھ دیا ہو۔ و اور