خطبة اِلہامِیّة — Page 36
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۳۶ خطبه الهاميه لَهُ نَحَرَ نَاقَةَ نَفْسِهِ وَتَلَّهَا لِلْجَبِيْنِ - وَمَا نَسِيَ الْحَيْنَ شتر ماده نفس را کشته واز بهر ذبح بر پیشانی فگنده اپنے نفس کی اونٹنی کو اس کے لئے قربان کر دیا ہو اور ذبح کے لئے پیشانی کے بل اسکو گرا دیا ہو اور موت سے و بهیچ وقتے موت خود را فِي حِيْنِ - فَحَاصِلُ الْكَلَامِ أَنَّ النُّسُكَ وَالضَّحَايَا فراموش نه کرده پس خلاصه کلام این است که ذبیحه و قربانی ها که در اسلام مروج اند ایک دم غافل نہ ہو پس حاصل کلام یہ ہے کہ ذبیحہ اور قربانیاں جو اسلام میں مروج ہیں فِي الْإِسْلَامِ - هِيَ تَذْكِرَةٌ لِهَذَا الْمَرَامِ - وحث آں ہمہ از بہر ہمیں مقصود که بذل نفس است یاددہانی است و وہ سب اسی مقصود کے لئے جو بذل نفس ہے بطور یاد دہانی ہیں اور عَلَى تَحْصِيْلِ هَذَا الْمَقَامِ - وَإِرْهَاصٌ لِحَقِيقَةٍ تَحْصُلُ برائے حاصل کر دن ہمیں مقام ترغیب و تحریص است و برائے ہمیں حقیقت کہ پس از سلوک تام اس مقام کے حاصل کرنے کے لئے ایک ترغیب ہے اور اس حقیقت کے لئے جو سلوک تام کے بعد بَعْدَ السُّلُوكِ التَّامَ - فَوَجَبَ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَّ میسر می شود ارہاص است یعنی نشان چیزی پیش از ظهور چیزے پس بر ہر مرد مومن و حاصل ہوتی ہے ایک ارہاص ہے ۔ پس ہر ایک مرد مومن اور مُؤْمِنَةٍ كَانَ يَبْتَغِي رِضَاءَ اللَّهِ الْوَدُوْدِ - أَنْ زن مومنه که طالب رضائے خدائے ودود باشد واجب است که عورت مومنہ پر جو خدائے ودود کی رضا کی طالب ہے واجب ہے _ _ _ _ _ _ _ کہ يَفْهَمَ هَذِهِ الْحَقِيقَةَ وَيَجْعَلَهَا عَيْنَ الْمَقْصُوْدِ را این حقیقت اس حقیقت کو سمجھے را بفهمد و ایں عین مقصود خود بگرداند اور اس کو اپنے مقصود کا عین قرار دے