خطبة اِلہامِیّة — Page 34
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۳۴ خطبه الهاميه يَدُلُّ قَطْعًا عَلَى أَنَّ الْعَابِدَ فِي الْحَقِيقَةِ هُوَ الَّذِي ذَبَحَ که در معنی لفظ نسک یافته می شود این را بریں امر دلالت قطعی است که در حقیقت عابد و پرستار ہماں کسی تواند بود که نسک کے معنوں میں پایا جاتا ہے قطعی طور پر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقی پرستار اور سچا عابد وہی شخص ہے ۳) نَفْسَهُ وَقُوَاهُ - وَكُلَّ مَنْ أَصْبَاهُ لِرِضَى رَبِّ الْخَلِيقَةِ نفس خود را وہمہ قوتہائے خود را وہمہ آں چیز ہارا کہ دل او برده اند و محبوب او شده اند برائے رضا جوئی پر وردگار جس نے اپنے نفس کو مع اس کی تمام قوتوں اور مع اس کے اُن محبوبوں کے جن کی طرف اُس کا دل کھینچا گیا ہے اپنے رب کی وَ ذَبِّ الْهَوَى - حَتَّى تَهَافَتَ وَالْمَحْى - وَذَابَ خود ذبح کرده است و خواهش نفسانی را دفع کرده است بحد یکہ آں خواہش پاره پاره شده بیفتاد واز و نشانے نماند رضا جوئی کیلئے ذبح کر ڈالا ہے اور خواہش نفسانی کو دفع کیا یہاں تک کہ تمام خواہشیں پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں اور نابود وَغَابَ وَاخْتَفَى - وَهَبَّتْ عَلَيْهِ عَوَاصِفُ الفَنَاءِ و پوشیده شد و پنہاں گردید ۔ و برد تند باد ہائے فنا و نیستی بوزیدند ہو گئیں اور وہ خود بھی گداز ہو گیا اور اسکے وجود کا کچھ نمود نہ رہا اور چھپ گیا اور فنا کی تند ہوائیں اس پر چلیں اور وَسَفَتْ ذَرَّاتِهِ شَدَائِدُ هَذِهِ الْهَوْجَاءِ - وَمَنْ وذرہ ہائے او راستی ہائے بادتند از جا برد۔ اس کے وجود کے ذرات کو اس ہوا کے سخت دھکے اُڑا کر لے گئے و ہر کہ دریں اور جس شخص نے فَكَرَ فِي هَذَيْنِ الْمَفْهُوْمَيْنِ الْمُشْتَرِكَيْنِ - وَتَدَبَّرَ ہر دو مفهوم که با هم در لفظ نسک اشتراک می دارند غور کرده باشد ان دونوں مفہوموں میں کہ جو باہم نسک کے لفظ میں مشارکت رکھتے ہیں غور کی ہوگی اور اس مقام کو تدبر الْمَقَامَ بِيَقُظِ الْقَلْبِ وَفَتْحِ الْعَيْنَيْنِ - فَلَا يَبْقَى و این مقام را بنگاه تدبر دیده و به بیداری دل و کشادن هر دو چشم همه پیش و پس آنرا زیر نظر داشته باشد۔ پس کی نگاہ سے دیکھا ہوگا اور اپنے دل کی بیداری اور دونوں آنکھوں کے کھولنے سے پیش و پس کو زیر نظر رکھا ہوگا پس اُس پر