خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 199

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۹۹ خطبه الهاميه أتممتموه بألسنكم أيها السالقون؟ ألا تأخذكم که خود با زبان ہائے خود وی را با تمام رسانیده اید آیا شرم دامن شما را کیا کیا کو پورا جھٹلاتے ہو۔ تم الحياء أنكم تدعون ربكم في الفاتحة أن يدخلكم نمی گیرد که ور فاتحہ از خدا می خواهید که شما را در شرم نہیں آتی کہ فاتحہ میں اپنے خدا سے چاہتے ہو کہ تم کو میری جماعت في جماعتي ثم تعرضون ؟ و كنتم تقولون لا (۱۳۷) جماعت من داخل بفرماید باز رو میں داخل فرماوے پھر منہ پھیرتے می گردانید و شما می گفتید که بغیر ہو۔ اور تم کہتے تھے کہ بغیر صلاة إلا بالفاتحة فلا تكونوا أوّل كافر بها أيها فاتحہ پیچ نماز درست نیست اکنوں اے موحداں خود شما اول کافر ہاں مشوید فاتحہ کوئی نماز درست نہیں۔ اب اے موحّدو! تم خود سب سے پہلے اس کا کفر مت کرو الموحدون۔ والعجب منكم كل العجب أنكم تقرء ون حیلے بڑا عجیب تعجب است ہے که که این دعا را پانچ وقت هذا الدعاء في السبع المثاني مع فهم المعاني في ور فاتحہ پنجوقت نے اس دعا کو فاتحہ میں پڑھتے خوانید و معنے اش ے فہمید ہو ہو اور اس کے معنے بھی سمجھتے أوقاتكم الخمسة ثم تنسـونـه وتعرضون ۔ و باز فراموش ہے کنید و اعراض ے نمائید بھولتے ہو اور مونهه پھیر لیتے ہو۔