خطبة اِلہامِیّة — Page 200
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۰۰ خطبه الهاميه ما هذا إلا شقاوة توجب غضب الرب لما هي این تیره بختی غضب خداوندی اس بد بختی سے خدا را پیدا می کند کا غضب بھڑکتا ہے چه که این کیونکہ یہ إعراض عما تؤمرون ۔ وما أسألكم على ما جئتكم از امر الهی رو گردانیدن است من بر آنچه پیش شما آورده ام خدا کے حکم سے منہ پھیرنا ہے۔ میں اس چیز پر جو تمہارے پاس لایا ہوں به من أجر ولا أقول أن انبذوا مالا من أيديكم مژدی از شما نمی خواهم و نه می گویم که مال از دست خود بر زمین بیفکنید کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ یہ کہتا ہوں کہ مال اپنے ہاتھ سے زمین پر پھینکو فـآخذه، بل أوتيكم ما لا فهل أنتم تأخذون؟ أيها و من وی را بردارم بلکه من خود شما را مال مے دہم آیا مے گیرید اور میں اسے اٹھالوں۔ بلکہ میں خود تم کو مال دیتا ہوں کیا لیتے ہو؟ الفقراء ما بقى في أيديكم شيء من اے اے تنگ دستان! چیزے فقیرو! دنیا اور از دنیا آخرت و میں آخرت در درست شما تمہارے پاس سے الدنيا والآخرة، فلا تظلموا أنفسكم وأنتم تعلمون۔ نمانده پس بر جان خود دانسته ظلم مکنید کچھ نہیں رہا۔ پس اپنی جان پر جان بوجھ کر ظلم نہ کرو اور وإن كنتم في شك من أمرى فامتحنوني كيف و دارید پس بہر طوریکه بخواهید اگر درباره من شکے اگر میری نسبت تمہیں کچھ شک ہے تو مجھے جس طرح چاہو