کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 550

کشف الغطاء — Page 20

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۰ نجم الهدى وإن رسالتي هذه قد خُصّت اور یہ میرا ارسالہ میری قوم سے خاص ہے جنہوں بقومي الذين أبوا دعوتى، وقالوا أفيكة نے میری دعوت سے انکار کیا اور یہ کہا کہ یہ ایک أفاك وحسبوها فريتي، وظنوا أنها كذاب کا جھوٹ ہے اور میری بات کو دروغ سمجھا اور گمان کیا کہ یہ ایک بہتان ہے اور باطنی عضيهة وهتكوا بسوء الظن عرضى سے میری ہتک عزت کی پس میرے غم اور اندوہ وحرمتي، فألجأني وجدى المتهالك نے جو کمال تک پہنچا ہوا ہے نصیحت اور غم خواری إلى النصيحة والمواساة، والله يعلم کی طرف مجھے تحریک کی اور خدا تعالیٰ اپنے ما في صدور عباده وهو عليم بالنيات بندوں کی نیتوں کو جانتا اور ان کے پوشیدہ ومطلع على المخفيات، وخبير بما بھیدوں پر اطلاع رکھتا ہے اور وہ تمام دنیا کے في العالمين۔ وإني لا أرى حاجة حالات سے آگاہ ہے اور میں اس رسالہ میں اس في هذه الرسالة إلى أن بات کی طرف کچھ حاجت نہیں پاتا کہ مذہب اكتب دلائل الملة الإسلامية، أو أُنمق اسلام کی حقیت کے دلائل لکھوں یا کچھ نبدا من فضائل خير البرية، عليه فضا ئل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان معظمات السلام والتحية کروں ۔ کیونکہ اسلام وہ دین بزرگ اور سیدھا وایں رسالہ مخصوصاً جهت قوم من است اعنی بہت انہائے کہ دعوت مرا دست رد بر سینه زدند و گفتند که این دروغ دغل سازی است و گمانیدند که آن را از قبل نفس خود تراشیدم و تار و پود لاف و گزافی چند را بر هم با فیدم و از شده ظن بد در پوستینم افتادند و هر طور ممکن بود و او تحقیر و تک آبروئی من در دادند ۔ لا جرم اندوه و غم من که پایانی ندارد مرا بر غمگساری و همدردی انها آماده کرد۔ دانائی نهان و آشکار آگاه بر آهنگ و پیج بنده ہائی خود می باشد و هم چنین احوال همه جهان بروی پوشیده نیست آنچه من می بینم احتیاج ندارد۔ در ایں رسالہ دلائل حقیت اسلام بر نگارم یا اند کے از فضائل و مزایائے حضرت سرور کائنات را (صلی اللہ علیہ وسلم )