کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 550

کشف الغطاء — Page 19

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۹ نجم الهدى ملة الإسلام۔ وهذه لهم كغواث في درج کی ہیں اور یہ رسالہ مخالفوں کے لئے ایک فریاد رس ہے جس کو میں نے جوش محبت سے دو لسانين منى ومن فور محبتی، وزاد زبانوں میں لکھا ہے۔ اور میرے بعض دوستوں الإنجليزية والفارسية عليها بعض نے فارسی انگریزی زبان کو ان پر زیادہ کیا۔ اور أحبتى، وما وهنوا وما استقالوا بل وه نه سُست ہوئے اور نہ اس کام سے معافی حفدوا إلى إسعاف منيتي، وكلّ هذا چاہی بلکہ میری آرزو کے پورا کرنے کے لئے دوڑے ۔ اور یہ سب کچھ میرے خدا کے فضل من ربي كافل خطتي۔ لا راد لإرادته، سے ہے۔ اس کے ارادے کو کوئی رو نہیں کر سکتا ولا صاد لمشيته، ولا مانع لفضله اور اس کی مشیت کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس کے ولا كافئ لنصله۔ ولقد كادت أنوار فضل کو کوئی منع کر نیوالا نہیں ۔ اس کی تلوار کو الإسلام تغرب، وأنواء ه تعزب، لولا کوئی پیچھے ہٹانے والا نہیں اور اگر وہ اس أن الله تدارك الأمة على رأس هذه امت کا صدی کے سر پر تدارک نہ کرتا اور ۵ قحط کے دنوں کی اپنی رحمت اور مہربانی سے المائة، وتلافى المحل بمزنة الرحمة تلافی نہ فرما تا تو اسلام کے تمام نور ڈوب چکے والعاطفة، فاشكروا هذا المولى تھے اور دینی بارشوں کے ستارے دور چلے گئے المحسن إن كنتم مؤمنين ۔ تھے ۔ سو اگر تم مومن ہو تو اس محسن آقا کا شکر کرو۔ درج کردم ۔ فی الحقیقت این رساله مخالفان را بمنزله فریادرسی است که از فرط جوش محبت در دولسان عربی وار دو تر قیم کردم و بعضی از دوستانم لسان انگلیسی و پارسی را بر آن افزودند وکسل و جبن را بخود راه ندادند و نه از قبول این فرمایش پوزش نمودند بل از برائے برآوردن کام من با پائی سر بشتافتند ۔ وایں ہمہ از محض فضل پروردگار من است کسی را از هره آن نه که سنگی در راه اراده اش گذارد و یا رائی آن نه که مشیت وی را دست ممانعه در پیش آرد فضل وی را کسی منع کند خیال محال است و تیغ بران وی را احدی سپر دفع پیش کند کرا مجال - واگر او بر سر صد این امت را در نیافتی و در آوان قحط از رحمت و فضل تدارک مافات نه فرمودی البته کشتی اسلام در چار موجه فنا فرورفته و تاریکی جائے نورش را گرفته وستاره ہائی باران دین بعید شده بود پس اگر بوئی از ایمان دارید باید بهزار جان تشکر آن مولائی محسن بجا آرید۔