کشف الغطاء — Page 18
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۸ نجم الهدى وما نبع في زمان ملامح السراب من مجھ کوملی ہے۔ اور بیان اس چشمہ کا ہے جو سراب کی چمک کے زمانہ میں میرے پروردگار کے عين في سربي، بإذن مولى مُربّى اذن سے میرے دل میں سے پھوٹا اور میں نے وشرعتها يوم الخميس وختمتها بكرة اس کو جمعرات کے دن شروع کر کے جمعہ کی صبح عروبة من غير أن أكابد الصعوبة۔ پورا کر دیا بغیر اس کے جو مجھ کو کوئی تکلیف پہنچی اور میں نے اس رسالہ کو حجت کے پوری کرنے وإني ألفت هذه الرسالة إتماما للحجة، کیلئے تالیف کیا ہے۔ اور اس امت کے غافلوں وبادرت إليها شفقة على الغافلين من کی ہمدردی کے لئے میں نے جلدی سے یہ کام هذه الأمة، ومثلت تحننا على الضعفاء کیا اور میں خادموں کی طرح اس کام کیلئے اسلامی جماعت کے کمزوروں کے لئے کھڑا من هذه العصبة، وإني أرى في دعوتی ہوا۔ کیونکہ میری دعوت کے قبول کرنے میں صلاح الرجال منهم والنسوة، ولو ان کے زن و مرد کی بھلائی ہے۔ اگر چہ اپنی كانت رابعة بنسكها والعفّة۔ وعوّضتها عبادت اور زہد کے ساتھ رابعہ وقت ہوں ۔ اور یہ ان تحریروں کا بدل ہے جو ان دنوں میں مخالفوں عما أشاع المخالفون في هذه الأيام، كى طرف سے نکلیں ۔ اور اس میں میں نے عمدہ وأودعتها من نكات المعارف و دقائق | عمده ملت اسلامی کے نکتے اور باریک باتیں صحبت از ان چشمه دارد که در زمان سراب نشان باذن پروردگار جهان و جهانیان از تگ دل من در جوش آمده و روز پنجشنبه شروع دران کردم و پگاه روز آدینه با نجام رسانیدم و در این کا ریچ گونه زحمتی پیش من نیامد ۔ وایں رسالہ راجهت اتمام حجته تالیف دادم و شفقت و رحمت بر ناداناں ایں امت رگ جانم را بحرکت آورد تا در این امر با گام زودی رفتار نمودم از کمال رافت چون شاگردان و نوکران جهت ہمدردی نا توانانِ ملت بر پا استادم چه بهبود مردان و زنان البته بسته به قبول دعوت من است اگر چه کسی از قرار زہد و عبادت رابعه وقت هم باشد وایس رساله در ازائی آن نوشته ها می باشد که مخالفان امروز روزیر روئی کار آورده اند من در درج این رسالہ ڈر ہائی شاہوار نکات اسلام ولالی مکنونه معارف و دقائق