کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 550

کشف الغطاء — Page 17

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۷ نجم الهدى شوقا وصارت أشكالها ككؤوس | اور ان کی شکلیں یوں ہو گئیں جیسا کہ شراب سے المدام، وما أعظم شأن رسول ما خلا بھرے ہوئے کوزے ہوتے ہیں اور اس رسول کی کیا ہی بلندشان ہے جس کا نام بھی وصیت اسمه من وصيّة للامة، بل ملاء سے خالی نہیں ۔ بلکہ خدا جوئی کے طریقہ کی اس من تعليم الطريقة، ويهدى إلى طرق سے تعليم ملتی ہے اور معرفت کی راہوں کی طرف المعرفة، وأشير في اسميه إلى منتهی وہ ہدایت کرتا ہے۔ اور اس میں اس نقطہ کی مراحل سبل حضرة العزّة، واومى طرف اشارہ ہے جس پر اہل معرفت کے سلوک ختم ہوتے ہیں اور نیز خدا شناسی کے آخری مقام - إلى نقطة ختم عليها سلوك أهل کی طرف اشارہ ہے۔ پس اے خدا! اس نبی پر المعرفة۔ اللهم فصل عليه وسلم، سلام اور درود بھیج اور اس کے آل پر جو مظہر اور و آله المطهرين الطيبين، وأصحابه طیب ہیں اور اس کے اصحاب پر جو دن کے الذين هم أسود مواطن النهار و میدانوں کے شیر اور راتوں کے راہب ہیں اور رهبان الليالي ونجوم الدين، دین کے ستارے ہیں۔ خدا کی خوشنودی ان سب کے شامل حال ہے۔ رضى الله عنهم أجمعين۔ اس کے بعد واضح ہو کہ یہ ایک أما بعد۔ فهذه رسالة فيها بيان رسالہ ہے جس میں بیان اس متاع کا ہے ما استبضعت متاعًا من ربّی جو بطور تجارتی مال کے میرے رب سے روانہائے ما پدید آمد و دلها از شوق لبریز و شکل انها بطوری شد که گوئی جامہائے پُر از آب آتشین می باشند ۔ فرخنده رسولی و حبّذ اشان بلند وی که نام پاکش هم مشتمل بر وصیت و نصیحت امه میباشد ۔ نه تنها همین قدر بلکہ آن نام مبارک تعلیم طریق ہائی حق جوئی و خدا پر وہی و ایمائی ہاں نقطه کند که سلوک اہل معرفت بدانجا با خر رسد و مقام آخری خدا شناسی آن باشد ۔ پس اے خدا بر آن نبی کریم سلام و درود بفرست و بر آل او که پاکیزه اند و بر اصحاب او که در میدان روز شیران بیشه دغاو در پس پرده شب تاریک بیدار دلان رهبان نما و نجوم بزم افروز ملت بیضا بودند ۔ خدائے رحیم افسر خوشنودی بر فرق ہمکنان پوشانید ۔ پوشیدہ نماند که این رساله بیان آن بضاعت را کند که بطور مال تجارة از خدا برمن ارزانی شده و