عصمتِ انبیاءؑ — Page 611
۲۲۹ روحانی خزائن جلد ۱۸ ٦٠٧ نزول المسيح تاریخ بیان نمبر شمار ان جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اس وحی نے درج ذیل پیشوئیاں بلائیں جودنیا پر اب ہوچکیں تاری امور بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۰۸ پیشگوئی نمبر ۱۰۹ زنده گواه رویت چھوٹی مسجد میں چند احباب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور آمد خرچ کا حساب کر رہے تھے کہ مجھ پر ایک کشفی حالت طاری ہوئی اور اس میں دکھایا گیا کہ ہند و تحصیلدار بٹالہ جس کے پاس مقدمہ تھا بدل گیا ہے اور اس کے عوض ایک اور شخص کرسی پر بیٹھا ۔ پر بیٹھا ہے جو مسلمان ہے اور اس کشف کے ساتھ بعض امور ایسے ظاہر ہوئے جو فتح کی بشارت دیتے تھے تب میں نے اسی وقت یہ کشف حاضرین کو سنا دیا جن میں سے ایک خواجہ جمال الدین صاحب بی اے انسپکٹر مدارس جموں و کشمیر تھے اور بہت سے جماعت کے لوگ تھے چنانچہ اس کے بعد ایسا ہوا کہ وہ ہندو تحصیلدار یکا یک بدل گیا اور اس کی جگہ میاں تاج الدین صاحب تحصیلدار بٹالہ مقرر ہوئے جنہوں نے نیک نیتی کے ساتھ اصل حقیقت کو دریافت کر لیا اور جو کچھ تحقیقات سے معلوم ہوا اس کی رپورٹ ڈکسن صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور میں بھیج دی اور نیک اتفاق یہ ہوا کہ صاحب موصوف بھی زیرک اور انصاف پسند تھے انہوں نے لکھ دیا کہ مرزاغلام احمد صاحب کا ایک شہرت یافتہ فرقہ ہے جن کی نسبت ہم بدظنی نہیں کر سکتے یعنی جو کچھ عذر کیا گیا ہے وہ واقعی درست ہے اس لئے ٹیکس معاف اور مسل داخل دفتر ہوئے ایک دفعہ ہمیں موضع گنجراں ضلع گورداسپور کو جانے کا اتفاق ہوا اور شیخ حامد علی ساکن تھہ غلام نبی ہمارے ساتھ تھا جب صبح کو ہم نے جانے کا پیشگوئی قریباً ۱۸۸۷ء لے اس نشان کے گواہ خواجہ جمال الدین صاحب بی اے۔ مولوی محمد علی صاحب ایم اے۔ مولوی عبد الکریم صاحب ۔ مولوی نور الدین صاحب ۔ مولوی شیر علی صاحب۔ شیخ عبد الرحمن صاحب ۔