حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 107

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۰۷ حقيقة الوحى ☆ تشاع والنفوس تضاعـاني مع الرسول اقوم پھیلائی جائیں گی اور کئی آفتوں سے جانوں کا نقصان ہوگا۔ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ وأفطر واصوم۔ ولن ابرح الارض الى الوقت الـمـعـلـوم - (۱۰۳) میں افطار کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا اور ایک وقت مقرر تک میں اس زمین سے علیحدہ نہیں ہوں گا۔ واجعل لك انوار القدوم - واقصدك واروم - واعطیک اور تیرے لئے اپنے آنے کے نور عطا کروں گا۔ اور تیری طرف قصد کروں گا۔ اور وہ چیز تجھے دوں گا جو ما يدوم - انا نرث الارض ناكلها من اطرافها - نقلوا الى تیرے ساتھ ہمیشہ رہے گی ۔ ہم زمین کے وارث ہوں گے اور اطراف سے اس کو کھاتے آئیں گے۔ کئی لوگ قبروں کی طرف المقابر - ظفر من الله وفتح مبين ـ ان ربــى قـــوى قـديـر - نقل کریں گے۔ اُس دن خدا کی طرف سے کھلی کھلی فتح ہوگی ۔ میرا رب زبردست قدرت والا ہے۔ انه قوى عزيز - حل غضبه على الارض - إني صادق اور وہ قوی اور غالب ہے۔ اُس کا غضب زمین پر نازل ہوگا۔ میں صادق ہوں اني صادق و يشهد الله لي ۔ اے ازلی ابدی خدا بیڑیوں کو میں صادق ہوں اور خدا میری گواہی دے گا۔ اے ازلی ابدی خدا میری پکڑ کے آ۔ ضاقت الارض بما رحبت ۔ رب اني مغلوب فانتصر مدد کے لئے آ۔ زمین با وجود فراخی کے مجھ پر تنگ ہو گئی ہے ، اے میرے خدا میں مغلوب ہوں میرا انتقام دشمنوں سے - زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے ہیں ۔ فسحقهم تسحيقا - زن لے۔ پس اُن کو پیس ڈال کہ وہ زندگی کی وضع سے دور جا پڑے ہیں۔ ظاہر ہے کہ خدا روزہ رکھنے اور افطار سے پاک ہے اور یہ الفاظ اپنے اصلی معنوں کی رُو سے اُس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے ۔ پس یہ صرف ایک استعارہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی میں اپنا قہر نازل کروں گا اور کبھی کچھ مہلت دوں گا۔ اُس شخص کی مانند جو کبھی کھاتا ہے اور کبھی روزہ رکھ لیتا ہے اور اپنے تئیں کھانے سے روکتا ہے۔ اور اس قسم کے استعارات خدا کی کتابوں میں بہت ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کو خدا کہے گا کہ میں بیمار تھا۔ میں بھوکا تھا۔ میں ننگا تھا۔الخ ۔ منہ