حقیقةُ الوحی — Page 106
روحانی خزائن جلد ۲۲ ١٠٦ حقيقة الوحى من لدن رب كريم ـ در کلام تو چیزی ست که شعرا را دران فصیح کیا گیا ہے۔ تیرے کلام میں ایک چیز ہے جس میں شاعروں کو ۱۰۳ دخلی نیست - رب علمني ما هو خير عندك ـ يـعـصـمـك الله من دخل نہیں۔ اے میرے خدا مجھے وہ سکھلا جو تیرے نزدیک بہتر ہے تجھے خدا دشمنوں سے العدا ويسطوا بكل من سطا - برز ما عندهم من الرماح - اني بچائے گا اور حملہ کرنے والوں پر حملہ کر دے گا۔ انہوں نے جو کچھ اُن کے پاس ہتھیار تھے سب ظاہر کر دیئے سأخبره في اخر الوقت - انك لست على الحق ـ ان الله رءوف میں مولوی محمد حسین بٹالوی کو آخر وقت میں خبر دے دوں گا کہ تو حق پر نہیں ہے۔ خدا روف و رحيم - انا النا لك الحديد - اني مع الافواج اتيك بغتة ۔ رحیم ہے۔ ہم نے تیرے لئے لوہے کو نرم کر دیا۔ میں فوجوں کے ساتھ نا گہانی طور پر آؤں گا۔ اني مع الرسول أجيب أخطى و أصيب وقالوا انى لك میں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دونگا اپنے ارادہ کو کبھی چھوڑ بھی دونگا اور کبھی ارادہ پورا کرونگا۔ اور کہیں گے کہ تجھے یہ مرتبہ کہاں هذا - قل هو الله عجيب - جاء في أيل واختار ـ وادار اصبـعـة سے حاصل ہوا۔ کہہ خداذ والعجائب ہے۔ میرے پاس آیل آیا اور اُس نے مجھے چن لیا۔ اور اپنی انگلی کو گردش دی و اشار۔ ان وعد الله الى۔ فطوبى لمن وجد ورأى الامراض اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آگیا ۔ پس مبارک وہ جو اُس کو پاوے اور دیکھے۔ طرح طرح کی بیماریاں اس وحی الہی کے ظاہری الفاظ یہ معنے رکھتے ہیں کہ میں خطا بھی کرونگا اور صواب بھی یعنی جو میں چاہوں گا کبھی کروں گا اور کبھی نہیں اور کبھی میرا ارادہ پورا ہوگا اور کبھی نہیں ۔ ایسے الفاظ خدا تعالیٰ کی کلام میں آجاتے ہیں۔ جیسا کہ احادیث میں لکھا ہے کہ میں مومن کی قبض روح کے وقت تردد میں پڑتا ہوں ۔ حالانکہ خدا تر ڈو سے پاک ہے اسی طرح یہ وحی الہی ہے کہ کبھی میرا ارادہ خطا جاتا ہے اور کبھی پورا ہو جاتا ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ کبھی میں اپنی تقدیر اور ارادہ کو منسوخ کر دیتا ہوں اور کبھی وہ ارادہ جیسا کہ چاہا ہوتا ہے۔ منہ ہے۔منه حاشيا اس جگہ ایل خدا تعالیٰ نے جبریل کا نام رکھا ہے اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔ منہ