حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 97

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۹۷ حقيقة الوحى انا فتحنا لک فتحا مبينا - ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك ۹۴ میں ایک عظیم فتح تجھ کو عطا کروں گا جو کھلی کھلی فتح ہو گی تا کہ تیرا خدا تیرے تمام گناہ بخش دے جو پہلے ہیں وما تأخر اني انا التواب - من جاءك جاء نی - سلام اور پچھلے ہیں۔ میں تو بہ قبول کرنے والا ہوں ۔ جو شخص تیرے پاس آئے گا وہ گویا میرے پاس آئے گا۔ تم پر عليكم طبتم ـ نحمدك ونصلّى - صلوة العرش الى الفرش سلام تم پاک ہو۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ عرش سے فرش تک تیرے پر درود ہے نزلتُ لَكَ وَلَكَ نُرِى ايات - الْأَمْرَاضُ تُشَاعُ والنُّفُوسُ میں تیرے لئے اُترا ہوں اور تیرے لئے اپنے نشان دکھلاؤں گا۔ ملک میں بیماریاں پھیلیں گی۔ اور بہت جانیں تُضَاعُ - وَمَا كَانَ الله لِيُغَيِّرَ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا ضائع ہوں گی ۔ اور خدا ایسا نہیں ہے جو اپنی تقدیر کو بدل دے جو ایک قوم پر نازل کی جب تک وہ قوم اپنے دلوں کے خیالات بِأَنْفُسِهِمْ - إنه أوى القرية لولا الاكرام لهلك الــمــقــام - کو نہ بدل ڈالیں۔ وہ اس قادیان کو کسی قدر بلا کے بعد اپنی پناہ میں لے گا۔ اگر مجھے تیری عزت کا پاس نہ ہوتا تو اس تمام گاؤں کو میں ہلاک کر دیتا انی احافظ كُلّ من في الدار - ما كان الله ليعذبهم میں ہر ایک کو جو اس گھر کی چار دیوار کے اندر ہے بچالوں گا۔ کوئی ان میں سے طاعون یا بھونچال سے نہیں مریگا۔ خدا ایسا نہیں ہے حاشیه ظالم انسان کا قاعدہ ہے کہ وہ خدا کے رسولوں اور نبیوں پر ہزار ہانکتہ چینیاں کرتا ہے اور طرح طرح کے عیب اُن میں نکالتا ہے گویا دنیا کے تمام عیبوں اور خرابیوں اور جرائم اور معاصی اور خیانتوں کا وہی مجموعہ ہیں۔ اب ان وساوس کا کہاں تک جواب دیا جائے جو نفس کی شرارت کے ساتھ مخلوط ہیں ۔ اس لئے یہ سنت اللہ ہے کہ آخر ان تمام جھگڑوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور کوئی ایسا عظیم الشان نشان ظاہر کرتا ہے جس سے اس نبی کی بریت ظاہر ہوتی ہے۔ پس لِيَغْفِرَ لَكَ الله کے کے یہی معنے ہیں ۔ منہ اوی کا لفظ عرب کی زبان میں اس موقعہ پر استعمال پاتا ہے جبکہ کسی قدر تکلیف کے بعد کسی شخص کو اپنی پناہ میں لیا جائے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيمًا فَاوی کے اور جیسا کہ فرماتا ہے أَوَيْنَهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ منه الفتح : الضحى : المؤمنون: ۵۱