حقیقةُ الوحی — Page 96
روحانی خزائن جلد ۲۲ १५ حقيقة الوحى قل اى وربي انه لحق ۔ ولا يردّ عن قوم يعرضون - الرحى کہہ خدا کی قسم اس زلزلہ کا آنا سچ ہے۔ اور خدا سے برگشتہ ہو نیوالے کسی مقام میں اس سے بچ نہیں سکتے یعنی کوئی مقام يدور ويـــنـــزل الـقـضــاء ـ لــم يـكـن الـــذيـن كــفــــروا مــن ان کو پناہ نہیں دے سکتا بلکہ اگر گھر کے دروازہ میں بھی کھڑے ہیں تو توفیق نہ پائینگے جو اس سے باہر ہو جائیں مگر اپنے عمل سے اهل الكتاب والمشركين منفكين حتى تأتيهم البينة ۔ ایک چکی گردش میں آئے گی اور قضا نازل ہوگی ۔ جو لوگ اہل کتاب اور مشرکوں میں سے حق کے منکر ہو گئے وہ بجز اس نشان عظیم کے اگر خدا ایسانہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ اريك زلزلة الساعة باز آنے والے نہ تھے۔ اگر خدا ایسا نہ کرتا نہ نا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ میں تجھے قیامت والا زلزلہ دکھاؤں گا۔ يريكم الله زلزلة الساعة - لمن الملك اليوم لله الواحد خدا تجھے قیامت والا زلزلہ دکھائے گا ۔ اُس دن کہا جائے گا آج کس کا ملک ہے کیا اس خدا کا ملک نہیں جو الـــــقهـــــــار - چمک دکھلاؤں گا تم کو اس نشان کی پنج بار سب پر غالب ہے۔ اور میں اس زلزلہ کے نشان کی پنج مرتبہ تم کو چمک دکھلاؤں گا۔ اگر چاہوں تو اُس دن خاتمہ انــــى احــــــافـــظ كـــل مــــن اگر چاہوں تو اُس دن دنیا کا خاتمہ کردوں۔ میں ہر ایک کو جو تیرے گھر میں ہوگا اُس کی في الدار - اریک ما یرضیک۔ رفیقوں کو کہہ دو کہ حفاظت کروں گا اور میں تجھے وہ کرشمہ قدرت دکھلاؤں گا جس سے تو خوش ہو جائے گا۔ رفیقوں کو کہہ دو کہ عجائب در عجائب کام دکھلانے کا وقت آگیا ہے۔ عجائب کام دکھلانے کا عجائب در ہے۔ وقت آگیا اس وحی الہی سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ زلزلے آئیں گے اور پہلے چار زلزلے کسی قدر ہلکے اور خفیف ہوں گے اور دنیا ان کو معمولی سمجھے گی اور پھر پانچواں زلزلہ قیامت کا نمونہ ہوگا کہ لوگوں کو سودائی اور دیوانہ کر دے گا یہاں تک کہ وہ تمنا کرینگے کہ وہ اس دن سے پہلے مر جاتے ۔ اب یادر ہے کہ اس وحی الہی کے بعد اس وقت تک جو ۲۲ جولائی ۱۹۰۶ء ہے اس ملک میں تین زلزلے آچکے ہیں یعنی ۲۸ فروری ۱۹۰۶ ء اور ۲۰ مئی ۱۹۰۶ء۔اور ۲۱ جولائی ۱۹۰۶ء مگر غالبًا خدا کے نزدیک یہ زلزلوں میں داخل نہیں ہیں کیونکہ بہت ہی خفیف ہیں شاید چار زلزلے پہلے ایسے ہوں گے جیسا که ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کا زلزلہ تھا اور پانچواں قیامت کا نمونہ ہوگا۔ واللہ اعلم۔ منه