حقیقةُ الوحی — Page 83
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۸۳ حقيقة الوحى يعلمون - وَإِذَا قِيلَ لهم لا تُفْسِدُوا في الارض قالوا مطلع نہیں اور جب اُن کو کہا جائے کہ زمین پر فساد مت کرو کہتے ہیں کہ انما نحن مصلحون - قل جَاءَ كُم نُورٌ مِّنَ الله فلا تكفروا بلکہ ہم اصلاح کرنے والے ہیں۔ کہہ تمہارے پاس خدا کا نور آیا ہے پس اگر ان کنتم مؤمنين - ام تستلهم من خرج فهم من مغرم مومن ہو تو انکار مت کرو۔ کیا تو ان سے کچھ خراج مانگتا ہے پس وہ اُس چٹی کی وجہ سے مُّثْقَلُوْنَ - بل ا تينهم بِالحَقِّ فهم لِلْحَقِّ كارهون۔ تلطف ایمان لانے کا بوجھ اُٹھا نہیں سکتے بلکہ ہم نے ان کو حق دیا اور وہ حق لینے سے کراہت کرتے ہیں۔ لوگوں کے بالناس وترحم عليهم - انت فيهم بمنزلة موسى واصبر ساتھ لطف اور رحم کے ساتھ پیش آ۔ تو ان میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے اور ان کی على ما يقولون - لعلّك بَاخِعٌ نفسك الا يكونوا مؤمنين باتوں پر صبر کر۔ کیا تو اس لئے اپنے تئیں ہلاک کرے گا کہ وہ کیوں ایمان نہیں لاتے لا تقف ما ليس لك به علم - ولا تخاطبني في الذين ظلموا اس بات کے پیچھے مت پڑ جس کا تجھے علم نہیں اور ان لوگوں کے بارہ میں جو ظالم ہیں مجھ سے گفتگو انهم مغرقون - واصنع الفلك بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا - إِنَّ مت کر کیونکہ وہ سب غرق کئے جائینگے اور ہماری آنکھوں کے رو بروکشتی تیار کر اور ہمارے اشارے سے وہ لوگ جو الذين يبايعونك انما يبايعون الله ـ يـد الله فوق ايديهم تیرے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں وہ خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے واذ يمكر بك الذي كفر - او قدلی یا هامان ۸۱ اور یاد کر وہ وقت جب تجھ سے وہ شخص مکر کرنے لگا جس نے تیری تکفیر کی اور تجھے کا فرٹھہرایا اور کہا کہ اے ہامان مکفر سے مراد مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی ہے کیونکہ اُس نے استفتاء لکھ کر نذیر حسین کے سامنے پیش کیا اور اس ملک میں تکفیر کی آگ بھڑ کانے والا نذیر حسین ہی تھا۔ عليه ما يستحقه ۔ منه