حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 84

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۸۴ حقيقة الوحى ☆ لعلى اطلع على اللَهِ مُوسى - وانــي لا ظـــــه مــن الكاذبين میرے لئے آگ بھڑکا تا میں موسیٰ کے خدا پر اطلاع پاؤں اور میں اُس کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ تبت يدا أبي لهب و تب - مــــا كـــــان لــــه ان يدخل ہلاک ہو گئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے اور وہ آپ بھی ہلاک ہو گیا ۔ اس کو نہیں چاہیے تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتا فيها الا خائفًا - وما اصابك فمن الله - الفتنة ههنا مگر ڈرتے ڈرتے۔ اور جو کچھ تجھے رنج پہنچے گا وہ تو خدا کی طرف سے ہے۔ اس جگہ ایک فتنہ برپا ہوگا۔ فاصبر كما صبر اولو العزم - الا انها فتنة من الله پس صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا۔ وہ فتنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا ليحب حبا جما - حبا من اللـه الـعـزيـز الاكرم ـ شـــاتــان تا وہ تجھ سے محبت کرے۔ وہ اس خدا کی محبت ہے جو بہت غالب اور بزرگ ہے۔ دو بکریاں تذبحان - وكل من عليها فان - ولا تهنوا ولا تحزنوا ۔ ذبح کی جائیں گی اور ہر ایک جو زمین پر ہے آخر وہ فنا ہوگا۔ تم کچھ غم مت کرو اور اند و بگین مت ہو اليس الله بكاف عبده - الم تعلم ان الله على کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں۔ کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر ایک كُلِّ شيءٍ قدير - وان يتخذونك الا هـــــــوا چیز پر قادر ہے اور تجھے انہوں نے ٹھٹھے کی جگہ بنا رکھا ہے۔ أهذا الذى بعث الله - قل انما انا بشر مثلكم وہ ہنسی کی راہ سے کہتے ہیں کیا یہی ہے جس کو خدا نے مبعوث فرمایا۔ ان کو کہہ کہ میں تو ایک انسان ہوں ۔ اس جگہ ابولہب سے مراد ایک دہلوی مولوی ہے جو فوت ہو چکا ہے اور یہ پیشگوئی ۲۵ برس کی ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے اور یہ اس زمانہ میں شائع ہو چکی ہے جبکہ میری نسبت تکفیر کا فتوی بھی ان مولویوں کی طرف سے نکلا تھا۔ تکفیر کے فتوی کا بانی بھی وہی دہلی کا مولوی تھا جس کا نام خدا تعالیٰ نے ابولہب رکھا اور تکفیر سے ایک مدت دراز پہلے یہ خبر دے دی جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔ منہ * سہو کتابت معلوم ہوتا ہے نہ نکلا تھا “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)