حقیقةُ الوحی — Page 75
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۷۵ حقيقة الوحى لك درجة في السماء وفى الذين هم يبصرون - ولک تیرا آسمان پر ایک درجہ اور ایک مرتبہ ہے اور نیز اُن لوگوں کی نگہ میں جو دیکھتے ہیں۔ اور تیرے لئے نرى ايات ونهدم ما يعمرون۔ الحمد لله الذي ہم نشان دکھائیں گے اور جو عمارتیں بناتے ہیں ہم ڈھا دینگے۔ اُس خدا کی تعریف ہے جس نے تجھے جعلك المسيح ابن مريم - لا يُسئل عمّا يَفْعَلُ وهم مسیح ابن مریم بنایا۔ وہ اُن کاموں سے پوچھا نہیں جاتا جو کرتا ہے۔ اور لوگ اپنے کاموں سے يُسْتَلونَ - وَقَالُوا أَتَجْعَلُ فيها من يفسد فيها پوچھے جاتے ہیں۔ اور انہوں نے کہا کہ کیا تو ایسے شخص کو خلیفہ بناتا ہے جو زمین پر فساد کرتا ہے۔ قال انى اعلمُ مَا لا تعلمون - انى مهين من اراد اُس نے کہا کہ اس کی نسبت جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے ۔ میں اُس شخص کی اہانت کروں گا جو تیری اهانتك اني لا يخاف لدى المرسلون ـ كتب الله اہانت کا ارادہ کرے گا۔ میرے قرب میں میرے رسول کسی دشمن سے نہیں ڈرا کرتے۔ خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ خدا تعالیٰ کا پاک کلام جو میری کتاب براہین احمدیہ کے بعض مقامات میں لکھا گیا ہے اس میں خدا تعالیٰ نے بتصریح ذکر کر دیا ہے کہ کس طرح اُس نے مجھے عیسی بن مریم ٹھہرایا۔ اس کتاب میں پہلے خدا نے میرا نام مریم رکھا اور بعد اس کے ظاہر کیا کہ اس مریم میں خدا کی طرف سے روح پھونکی گئی اور پھر فرمایا کہ روح پھونکنے کے بعد مریکی مرتبہ عیسوی مرتبہ کی طرف منتقل ہو گیا اور اس طرح مریم سے عیسیٰ پیدا ہو کر ابن مریم کہلایا۔ پھر دوسرے مقام میں اسی مرتبہ کے متعلق فرمایا فاجاءه المخاض الى جذع النخلة ـ قال يا ليتني مت قبل هذا وكنت نسيا منسيا۔ اس جگہ خدا تعالیٰ ایک استعارہ کے رنگ میں فرماتا ہے کہ جب اس مامور میں مریمی مرتبہ سے عیسوی مرتبہ کا تولد ہوا اور اس لحاظ سے یہ مامور ابن مریم بنے لگا تو تبلیغ کی ضرورت جو در وزہ سے مشابہت رکھتی ہے اس کو امت کی خشک جڑ کے سامنے لائی جن میں فہم اور تقویٰ کا پھل نہیں تھا اور وہ طیار تھے کہ ایسا دعوئی سن کر افترا کی تہمتیں لگاویں اور دکھ دیں اور طرح طرح کی باتیں اُس کے حق میں کریں تب اُس نے اپنے دل میں کہا کہ کاش میں پہلے اس سے مر جاتا اور ایسا بھولا بسرا ہو جاتا کہ کوئی میرے نام سے واقف نہ ہوتا۔ منہ