گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 549 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 549

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۴۵ نزول المسيح تاریخ بیان نمبر شمار ان جس کی اس میں میر کیا گیا ہوں اس کی نے مندجہ ذیل فار عادت پینگیں لائی میں جو نا ظاہر ی میں تاریخ لاہور بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۲ کی کہ اپنے پہلے طریق کو جو ہمیشہ مسلمانوں سے مذہبی بحث کرتا تھا اور اسلام کے رد میں کتابیں لکھتا تھا بالکل چھوڑ دیا اور ہر یک کلمہ تو ہین اور استخفاف سے اپنا منہ بند کر لیا بلکہ اس کے منہ پر مہر لگ گئی اور خاموش اور غمگین رہنے لگا اور اس کا غم اس درجہ تک پہنچ گیا کہ آخر وہ زندگی سے نومید ہو کر بے قراری کے ساتھ اپنے عزیزوں کی آخری ملاقات کے لئے شہر بشہر دیوانہ پن کی حالت میں پھرتا رہا اور اسی مسافرانہ حالت میں انجام کار فیروز پور میں فوت ہو گیا۔ اور یہ سوال کہ باوجود اس کے کہ اس نے اپنی بے باکی کے لفظ سے عام مجلس میں رجوع کر لیا اور بار بار عجز و نیاز سے دجال کہنے کے کلمہ سے بیزاری ظاہر کی تو پھر کیوں وہ پکڑا گیا اور کیوں جلد انہیں دنوں میں فوت ہو گیا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ وہ مباہلہ کا نشانہ ہو چکا تھا لہذا ان پیشگوئیوں کے موافق جو کتاب انجام آتھم کے پہلے صفحہ میں موجود ہیں جو آتھم کی زندگی میں ہی پندرہ مہینے گزر نے کے بعد کی گئی تھیں اس کا مرنا ضروری تھا کیونکہ ان پیشگوئیوں میں صاف لفظوں میں لکھا گیا تھا کہ آتھم انکار قسم اور اخفاء شہادت اور اعادہ بے باکی کے بعد جلد تر فوت ہو جائے گا ۔ پس جب کہ اس نے ارتکاب ان جرائم کا کیا تو ہمارے آخری اشتہار سے سات مہینے بعد فوت ہو گیا اور نیز اس لئے اس کا مرنا بہر حال ضروری تھا کہ پیشگوئی کے مضمون میں یہ بات داخل تھی کہ جو جھوٹا ہے وہ صادق سے پہلے مرے گا لہذا رجوع کا فائدہ اس نے صرف اس قدر ا ٹھایا کہ پندرہ میں نہ مرا لیکن بعد میں جب کہ وہ پندرہ مہینہ پیشگوئی اور شیخ نور احمد صا۔ نور احمد صاحب اڈیٹر اخبار ریاض ہند امرتسر و ما لا رو ما لک مطبع ریاض ہند امرتسر اور م میاں نبی بخش صاحب تاجر پشمینہ امرت سر اور میاں قطب الدین میں گر امرت سر ١٦٧