گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 548
روحانی خزائن جلد ۱۸ لدلد نزول المسيح ۱۲۶ نمبر شمار جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اس وحی نے مندرجہ ذیل خارق عات پیشگویاں بتائی ہیں جو نا پرظاہر ہو میں تاریخ ظہور پیشگوئی بلا توقف اپنی زبان منہ سے نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر دھر لئے اور ہاتھوں کو معہ سر کے ہلانا شروع کیا جیسا کہ ایک ملزم خائف ایک الزام سے سخت انکار کر کے تو بہ اور انکسار کے رنگ میں اپنے تئیں بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۲ ظاہر کرتا ہے اور بار بار لرزتے ہوئے زبان سے کہتا تھا کہ تو بہ توبہ میں نے بے ادبی اور گستاخی نہیں کی اور میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز ہرگز دجال نہیں کہا اور کانپ رہا تھا اس نظارہ کو نہ صرف مسلمانوں نے دیکھا بلکہ ایک جماعت کثیر عیسائیوں کی بھی اس وقت موجود تھی جو اس عجز و نیاز کو بھی دیکھ رہی تھی۔ اس انکار سے اس کا یہ مطلب معلوم ہوتا تھا کہ میری اس عبارت کے جو میں نے اندرونہ بائیبل میں لکھی ہے اور معنی ہیں بہر حال اس نے اس مجلس میں قریباً ستر آدمی کے روبرو دجال کہنے کے کلمہ سے رجوع کر لیا اور یہی وہ کلمہ تھا جو اصل موجب اس پیشگوئی کا تھا اس لئے وہ پندرہ مہینہ کے اندر مرنے سے بچ رہا کیونکہ جس گستاخی کے کلمہ پر پیشگوئی کا مدار تھا وہ کلمہ اس نے چھوڑ دیا اور ممکن نہ تھا کہ خدا اپنی شرط کو یاد نہ کرے اور اگر چہ رجوع کی شرط سے فائدہ اٹھانے کے لئے اسی اگرچه قدر کافی تھا مگر آتھم نے صرف یہی نہیں کیا کہ اپنے قول دجال کہنے سے باز آیا بلکہ اسی دن سے جو اس نے پیشگوئی کو سنا اسلام پر حملہ کرنا اس نے بکلی چھوڑ دیا اور پیشگوئی کا خوف اس کے دل پر روز بروز بڑھتا گیا یہاں تک کہ وہ مارے ڈر کے سراسیمہ ہو گیا اور اس کا آرام اور قرار جاتا رہا اور یہاں تک اس نے اپنی حالت میں تبدیلی میاں محمد چٹو صاحب لاہور اور م و صاحب لاہور اور منشی تاج الدین رین صاحب لاہور اور مولوی الہ دیا صاحب از لودیانہ اور منشی محمد اروڑا صاحب از کپورتھلہ اور میاں محمد خان صاحب از کپورتھلہ