گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 550 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 550

روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۵۴۶ نزول المسيح ۶۸ نمبر شمار ان جس کی اس میں مشرف کیا گیاہوں اس نے مندرج ذیل خرق عادت میگوئیاں لائیں جو نا ظاہر ی میں تاریخ لاہور بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۲ رویت نمبر ۴۲ زنده گواه کے گزرنے کے پیچھے اپنے رجوع پر بھی قائم نہ رہ سکا اور اس کے دل میں وہ خوف نہ رہا جو پندرہ مہینہ کی میعاد کے اندر تھا اور جھوٹ بولا اور کہا کہ میں پیشگوئی سے ہرگز نہیں ڈرا اور جب چار ہزار روپیہ نقد ۱۵ دینے کے وعدہ سے قسم کے لئے بلایا گیا تو قسم بھی نہ کھائی ۔ لہذا خدا نے انکار اور اخفاء شہادت اور بے باکی کے بعد ہمارے آخری اشتہار سے سات ماہ کے اندر یعنی پندرہ مہینہ کے اندر ہی مار دیا اور ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔ اس صورت میں جو پندرہ مہینہ پیشگوئی کے لئے مقرر ہوئے تھے آخر آتھم اس دائرہ کے اندر ہی مرا اور پندرہ مہینہ کی میعاد بہر صورت قائم رہی ۔ یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے جمالی رنگ میں تھی یعنی رفق اور نرمی کے لباس میں ۔ چونکہ آتھم نے اپنی روش میں نرمی اختیار کی اور اس سخت گندہ زبانی کو اختیار نہ کیا جس کو لیکھرام نے اختیار کیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی اس سے نرمی کا ہی برتاؤ کیا اور اس کو مہلت دینے اور آخر مارنے سے جمالی رنگ کا نشان دکھلایا لیکن لیکھر ام نہایت دریدہ دہن اور بد زبان تھا اس لئے خدا نے جلالی رنگ کا نشان اس میں دکھلا دیا اور جب نادانوں اور اندھوں نے اس جمالی نشان کا قدر نہ کیا کہ جو بذریعہ آتھم ظاہر ہوا تو خدا نے اس کے بعد لیکھرام کی موت کا نشان جو ہیبت ناک اور جلالی تھا ظاہر کر دیا۔ پیشگوئی مفتی محمد صادق صاحب ۔ صاحبزادہ سراج الحق صاحب ۔ قاضی ضیاء الدین صاحب۔ مولوی عبد اللہ سنوری صاحب - شیخ چراغ علی صاحب وغیرہ اس پیشگوئی کے گواہ ہیں۔