گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 539 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 539

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۳۵ نزول المسيح تاریخ بیان نمبر شمار یا جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اس وحی کی خارق عادت پیشگویاں جو نا پر ظاہر ہوچکیں تاتاری اور بقیہ پیشگوئی نمبر ۳۵ پیشگوئی نمبر ۳۶ زندہ گواہ رویت کے الله ال محمد بخش طاعون سے مرا۔ تینوں مولوی لدھیانہ کے ہلاک کئے گئے۔ محمد حسن بھیں ہلاک کیا گیا۔ غلام دستگیر قصوری ہلاک کیا گیا۔ محی الدین لکھو کے والا ہلاک کیا گیا۔ اور اصغر علی کی ایک آنکھ جاتی رہی اور مولوی محمد حسین عفر کی دعا کے نیچے آگیا کیونکہ غفر لغت عرب میں خاک آلودہ کرنے کو کہتے ہیں ۔ سو وہ تکفیر کی جمعداری سے بحکم حاکم روکا گیا اور زمینداری کی گرد و غبار میں آلودہ کیا گیا کیونکہ خاک میں غلطاں پیچاں ہونا لوازم زمینداری میں سے ہے۔ وجہ یہ کہ ہر وقت خاک سے ہی کام پڑتا ہے۔ اس قدر تو وقوع میں آگیا ابھی معلوم نہیں کہ اس کا حصہ اور کس قدر باقی ہے۔ کتاب نور الحق کے صفحہ ۳۵ سے ۳۸ تک بذریعہ الہام الہی طاعون کی خبر دی گئی ہے جو چھ برس بعد ظہور میں آئی ۔ صفحہ ۳۵ میں یہ عبارت ہے ۔ اِعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ نَفَتْ فِي رَوْعِي إِنَّ هذَا الْخَسوف والكسوف فِي رَمَضَان ايتان مخوفتان لِقَوْم اتَّبَعُوا الشَّيطان ۔۔۔۔۔۔ وَلَئِنْ أَبَوا فَإِنَّ الْعَذَابَ قَدْ حَان۔ ترجمہ ۔ خدا نے اپنے الہام کے ساتھ میرے دل میں پھونکا ہے کہ خسوف کسوف ایک عذاب کا مقدمہ ہے یعنی طاعون کا جو قریب ہے۔ پیشگوئی نمبر ۳۵ کا ثبوت گذر چکا ہے وہی ثبوت پیشگوئی نمبر ۳۶ کا ہے۔ پیشگوئی طاعون کے دنوں میں ۱۵۷