گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 538 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 538

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۳۴ نزول المسيح تاریخ بیان ۱۵۲ نمبر شمار یا جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وحی ی خارق عادت پیشگوئیاں جو نیا پرظاہر ہو چکیں تاری امور بقیہ پیشگوئی نمبر ۳۴ پیشگوئی نمبر ۳۵ محرم ۱۳۱۲ ہجری زندہ گواہ رویت کے اور اس زمانہ میں طاعون کے پھیلنے کی کچھ بھی امید نہ تھی پس دیکھو یہ کس قدر عظیم الشان غیب کی خبریں ہیں جو برابر بائیس برس سے مسلسل طور پر شائع ہو رہی ہیں اور متواتر خبر دی گئی کہ ملک میں طاعون آنے والی ہے۔ عرصہ نو برس کا جاتا ہے کہ کتاب سر الخلافہ کے صفحہ ۶۲ میں مخالفوں پر تباہی پڑنے اور نیز طاعون نازل ہونے کے لئے دعا کی گئی تھی سواب تک ہزار ہا مخالف طاعون اور دوسری آفات سے ہلاک اور تباہ ہو چکے ہیں اور وہ دعا یہ ہے۔ وخذ ربّ من عادى الصلاح و مفسدا ونزل عليه الرجز حقًا و دمر وَفَرِّجُ كُرُوبِی يَا كَرِيمى وَ نَجِّنِی و مزق خصیمی یا الهی و عفر ترجمہ: یعنی اے میرے خدا ہر ایک پر جو مفسد ہے طاعون نازل کر یا کسی دوسری موت سے ہلاک کر یا کوئی اور مواخذہ کر اور مجھے غموں سے نجات بخش اور میرے دشمن کو پارہ پارہ کر اور خاک میں ملا دے اور خاک سے آلودہ کر اور خاک میں غلطاں پیچاں کر۔ سو ملک میں طاعون نازل ہو کر ہزار ہا بخیل جو ہمارے سلسلہ کے دشمن تھے طاعون سے فوت ہو گئے ۔ ابھی آئندہ کی خبر نہیں ماسوا اس کے جو منتخب مولوی تھے بعض ان میں اندھے ہو گئے اور بعض کانے ہو گئے اور بعض دیوانے اور بہت سے ان میں سے مر گئے چنانچہ بر طبق اس دعا کے مولوی شاه دین دیوانہ ہو گیا۔ رشید احمد اندھا ہو گیا۔ پیشگوئی طاعون کے دنوں میں پیشگوئی نمبر ۳۵ کے ثبوت کے لئے بھی سرکاری نقشجات کافی ہیں اور یہ پیشگوئی کتاب سر الخلافہ میں موجود ہے۔