گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 537 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 537

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۳۳ نزول المسيح تاریخ بیان نمبر شمار ان جس کو اس میں مشرف کی گیا ہوں اس نے مندجہ ذیل خرق عادت میگویا میری تائی میں یا فرمائیں اتاری اور پیشگوئی نمبر ۳۳ آج سے نو برس پہلے پیشگوئی نمبر ۳۴ קי 76715 اسی طرح اس زمانہ میں جب کہ بمبئی میں بھی طاعون کا نام و نشان نہ تھا طاعون کے آنے کے لئے دعا کی گئی اور وہ دعا منظور ہو گئی چنانچہ ۱۳۱۱ ہجری میں جس کو نو برس ہو گئے یہ دعائیہ شعر حمامة البشری میں موجود ہے۔ فَلَمَّا طَغَى الفِسْقُ الْمُبِيدُ بِسَيْلِهِ تَمَنَّيْتُ لَوْ كَانَ الْوَبَاءُ الْمُتَبَرُ دیکھو صفحہ اول قصیدہ حمامۃ البشری یعنی جب فسق کا طوفان برپا ہوا تو میں نے خدا سے چاہا کہ طاعون آوے۔ ایسا ہی طاعون کے بارے میں رسالہ سراج منیر صفحہ ۵۹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ جن لوگوں نے لیکھرام کے متعلق کی پیشگوئی کو قبول نہیں کیا تھا ان پر بھی طاعون کی بلا نازل ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا یعنی جنہوں نے گوسالہ کو عزت دی اور اس کی پرستش کی ان پر غضب آئے گا اور ذلت کی ماران پر پڑے گی سو دنیا میں غضب نازل پیشگوئی مال کے بعد اول بمبئی میں طاعون پھوٹ پڑی چند سال اس پیشگوئی سے چند سال بعد پنجاب میں طاعون پھیل گئی المولده الله لله کشتیو زنده گواه رویت الاعراف : ۱۵۳ ہونے سے مراد طاعون ہے اور اسی کتاب کے صفحہ ۶۰ میں طاعون کی نسبت یہ الہام بھی لکھا تھا یا مسیح الـخـلـق عدوانا یعنی طاعون کے غلبہ کے وقت لوگ کہیں گے کہ اے مسیح ہماری شفاعت کر ۔ اور اس کتاب کے شائع کرنے پر آج سے جو ۱۸ جولائی ۱۹۰۲ء ہے پانچ برس گزر گئے ان دونوں پیشگوئیوں نمبر ۳۳ و۳۴ کے ثبوت میں سرکاری نقشجات کافی ہیں جن کا ہم صفحہ ۱۵۳ ۱۵۴ میں ذکر کر آئے ہیں۔ ۱۵۵