گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 536 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 536

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۳۲ نزول المسيح تاریخ بیان ۱۵۴ نمبر شمار ان جس کی اس میں صرف کیا گیاہوں اس وجین مندرجہ ذیل خرق عادت پیویا میری تائی میں یا فرا میں تاری امور بقیہ پیشگوئی نمبر ۳۲ دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے اور الہام ہوا کہ الامراض تشاع والنفوس تضاع ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بأنفسهم انه أوى القرية يعنى يه طاعون جو ملک میں شروع ہوگئی ہے یہ کبھی دور نہیں ہوگی اور یہ مرض پھیل جائے گی اور بہت موتیں ہوں گی اور کم نہیں ہوں گی جب تک لوگ اپنے اعمال کی اصلاح نہ کریں مگر اس قادر خدا نے قادیان کو متفرق اور منتشر ہونے سے بچالیا ہے یعنی قادیان پر ایسی تباہی نہیں آئے گی کہ اس قصبہ کو بکلی برباد کر دے اور فنا کر دے اور منتشر کر دے اور قادیان بکلی طاعون سے محفوظ بھی رہ سکتی ہے مگر بشرط تو بہ یعنی اس شرط سے کہ تمام لوگ اپنی بد زبانیوں اور بداعمالیوں اور خباثتوں سے توبہ کر لیں۔ دیکھو اشتہار طاعون شائع کرده ۶ فروری ۱۸۹۸ء و ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ء ۔ یہ رویا اور الہام تھا کہ مجھے دکھایا گیا اور بتایا گیا اور پھر اشتہار ۶ رفروری ۱۸۹۸ء سے اور ۴ برس کے بعد عام طور پر پنجاب میں طاعون پھیل گئی چنانچہ یکم اکتوبر ۱۹۰۱ء سے ۱۹ جولائی ۱۹۰۲ء تک عرصہ پونے دس ماہ میں اس قدر پھیل گئی کہ کل ۲۳ اضلاع پنجاب کے اس سے آلودہ ہو گئے ۔ دیکھو سرکاری نقشجات متعلقہ طاعون پنجاب ۔ پس یہ پیشگوئی ایسے وقت میں کی گئی تھی یعنی فروری ۱۸۹۸ء میں جبکہ تمام پنجاب میں صرف دو ضلعے طاعون سے آلودہ تھے۔ دیکھو اخبار عام ۲ / اگست ۱۹۰۲ء جس میں یہ سرکاری شہادت درج ہے۔ پیشگوئی مگر بعد اس کے پنجاب کے ۲۳ ضلعے اس مرض سے آلودہ ہو گئے اور پونے دس ماہ میں تین لاکھ سولہ ہزار کیس ہوئے اور دو لاکھ اٹھارہ ہزار سات سوننانوے فوتیاں ہوئیں۔ دیکھو سرکاری نقشجات ۔