فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 748

فتح اسلام — Page 17

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۷ فتح اسلام ضرورتوں کے لحاظ سے اور اُن کے امراض لاحقہ کے خیال سے ہمیشہ باب تقریر کھلا رہتا ہے کیونکہ بُرائی کو نشانہ کے طور پر دیکھ کر اس کے روکنے کے لئے نصائح ضروریہ کی تیراندازی کرنا اور بگڑتے ہوئے اخلاق کو ایسے عضو کی طرح پا کر جو ﴿۲۸﴾ اپنے محل سے ٹل گیا ہو اپنی حقیقی صورت اور محل پر لانا جیسے یہ علاج بیمار کے رو برو ہونے کی حالت میں متصور ہے اور کسی حالت میں کما حقہ ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے چند میں ہزار نبی اور رسول بھیجے اور ان کی شرف صحبت میں مشرف ہونے کا حکم دیا تا ہر ایک زمانہ کے لوگ چشم دید نمونوں کو پاکر اور ان کے وجود کو ﴿۲۹﴾ اس جگہ یہ عجیب قصہ لکھنے کے لائق ہے کہ ایک دفعہ مجھے علیگڑھ میں جانے کا اتفاق ہوا اور مرض ﴿۲۷﴾ ضعف دماغ کی وجہ سے جس کا قادیان میں بھی کچھ مدت پہلے دورہ ہو چکا تھا میں اس لائق نہیں تھا کہ زیادہ گفتگو یا اور کوئی دماغی محنت کا کام کر سکتا اور ابھی میری یہی حالت ہے کہ میں زیادہ بات کرنی یا حد سے زیادہ فکر اور خوض کی طاقت نہیں رکھتا ۔ اس حالت میں علیگڑھ کے ایک مولوی صاحب محمد اسمعیل نام مجھ سے ملے اور انہوں نے نہایت انکساری سے وعظ کے لئے درخواست کی اور کہا کہ لوگ مدت سے آپکے شائق ہیں۔ بہتر ہے کہ سب لوگ ایک مکان میں جمع ہوں اور آپ کچھ وعظ فرماویں۔ چونکہ مجھے ہمیشہ سے یہی عشق اور یہی دلی خواہش ہے کہ حق باتوں کو لوگوں پر ظاہر کروں اس لئے میں نے اس درخواست کو بشوق دل قبول کیا اور چاہا کہ لوگوں کے عام مجمع میں اسلام کی حقیقت بیان کروں کہ اسلام کیا چیز ہے اور اب لوگ اُس کو کیا سمجھ رہے ہیں ﴿۲۸﴾ اور مولوی صاحب کو کہا بھی گیا کہ انشاء اللہ اسلام کی حقیقت بیان کی جائے گی لیکن بعد اس کے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے روکا گیا۔ مجھے یقین ہے کہ چونکہ میری صحت کی حالت اچھی نہیں تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ زیادہ مغز خواری کر کے کسی جسمانی بلا میں پڑوں اس لئے اُس نے وعظ کرنے سے مجھے روک دیا۔ ایک دفعہ اس سے پہلے بھی ایسا ہی اتفاق ہوا تھا کہ میری ضعف کی حالت میں ایک نبی گزشتہ نبیوں میں سے کشفی طور پر مجھ کو ۔ بر مجھ کو ملے اور مجھے بطور ہمدردی او ہمدردی اور نصیحت