فتح اسلام — Page 18
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۸ فتح اسلام مجسم کلام الہی مشاہدہ کر کے اُن کی اقتدا کے لئے کوشش کریں ۔ اگر صحبت صادقین میں رہنا واجبات دین میں سے نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ اپنے کلام کو بغیر بھیجنے رسولوں اور نبیوں کے اور طور پر ۳۰ بھی نازل کر سکتا تھا یا صرف ابتدائی زمانہ میں ہی رسالت کے امر کو محدود رکھتا اور آئندہ ہمیشہ کے لئے سلسلۂ نبوت اور رسالت اور وحی کا منقطع کر دیتا لیکن خدا تعالیٰ کی عمیق حکمت اور دانائی نے ہرگز ایسا منظور نہیں رکھا اور ضرورت کے وقتوں میں یعنی جب کبھی محبت الہی اور خدا پرستی اور تقویٰ طہارت وغیرہ امور واجبہ میں فرق آتا رہا ہے مقدس لوگ خدا تعالیٰ سے ۲۹ ۳۰ بقيه ح حاشيه کے کہا کہ اس قدر دماغی محنت کیوں کرتے ہو اس سے تو تم بیمار ہو جاؤ گے۔ بہر حال خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک روک تھی جس کا مولوی صاحب کی خدمت میں عذر کر دیا گیا اور یہ عذروا واقعی سچا تھا۔ جن لوگوں نے میری اس بیماری کے سخت سخت دورے دیکھے ہیں اور کثرت گفتگو یا خوض و فکر کے بعد بہت جلد اس بیماری کا برانگیختہ ہونا بچشم خود مشاہدہ کیا ہے وہ اگر چہ بباعث نا واقفیت میرے الہامات پر یقین نہ رکھتے ہوں لیکن ان کو اس بات پر بکلی یقین ہو گا کہ مجھے فی الواقعہ یہی مرض لاحق حال ہے۔ ڈاکٹر محمد حسین خان صاحب جولاہور کے آنریری مجسٹریٹ بھی ہیں اور اب تک میرا علاج کرتے ہیں اُن کی طرف سے ہمیشہ یہی تاکید ہے کہ دماغی محنتوں سے تا قیام مرض بچنا چاہیے اور ڈاکٹر موصوف میری اس حالت کے شاہد اوّل ہیں اور میرے اکثر دوست جیسے اخویم مولوی حکیم نوردین صاحب طبیب ریاست جموں جو ہمیشہ میری ہمدردی میں بدل وجان و مال مشغول ہیں اور منشی عبدالحق صاحب اکو نٹنٹ جو خاص لاہور میں سکونت اور تعلق ملازمت رکھتے ہیں جنھوں نے میری اس بیماری کے دنوں میں خدمت کا وہ حق ادا کیا جس کا بیان میری طاقت سے باہر ہے۔ یہ سب میرے مخلص میری اس حالت کے گواہ ہیں مگر افسوس کہ با وجود یکہ ہر ایک مومن حسن ظن کے لئے مامور ہے مولوی صاحب نے میرے اس عذر کو نیک ظنی سے دل میں جگہ نہیں دی بلکہ غایت درجہ کی بدگمانی کر کے دروغگو کی پر حمل کیا چنانچہ اُن کی ساری وہ تقریر جس کو ایک ڈاکٹر جمال الدین نام اُن کے دوست نے ان کی اجازت سے